خطبات محمود (جلد 8) — Page 202
202 ہے۔مگر باوجود اس کے اس کے اندر ایسے الفاظ رکھے گئے ہیں کہ جن کے مطالب عمر بھر نہیں ختم ہو سکتے۔اور اس کے اندر اس قدر وسیع مضامین ہیں کہ جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آتے۔چنانچہ حضرت صاحب نے قدر وضاحت سے اس کے مطلب کو بیان کیا ہے کہ اگر کوئی ضدی اور متعصہ نہ ہو تو اس کو اس بات سے کبھی انکار نہیں ہو گا۔یہ سورۃ نماز میں متواتر پڑھنے کے لئے بنائی گئی ہے اور میں نے بتایا ہے کہ یہ سورۃ قرآن کریم کی جڑ ہے کہ جس میں قرآن کریم کے مضامین کو بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ ان مضامین میں سے ایک خاص مضمون اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے جو ہر وقت مسلمان کے زیر نظر رہنا چاہیے۔ایسے مضمون کی ہی وجہ سے یہ سورۃ اپنے اندر ایسا اثر رکھتی ہے کہ اس کا پڑھنے والا خواہ کسی مذہب کا انسان ہو مسلمان ہو یا ہندو اس کا دل اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا بشرطیکہ وہ اس کے معنوں کو جانتا ہو۔پس وہ مضمون ہر وقت مسلمان کی نظر کے سامنے رہنا چاہیے۔وہ مضمون یہ ہے کہ انسان کی دو حالتیں ہمیں ایک حالت وہ ہے جو اس کو اوپر کی طرف لے جاتی ہے۔وہ ایاک نعبد سے شروع ہو کر انعمت علیھم پر ختم ہوتی ہے۔پس اس مضمون میں انسان کی دو حالتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک حالت تو اس کو اوپر کی طرف لے جانے والی ہے جو ایاک نعبد سے شروع ہو کر انجمت عليهم پر جا کر ختم ہوتی ہے۔اور ایک حالت اس کو نیچے کی طرف لے جانے والی ہے۔جو مغضوب علیھم سے شروع ہو کر ضالین تک جا ختم ہوتی ہے۔اب یہ دو رہتے ہیں جو ہم کو بتائے گئے ہیں اور ایک مسلمان کو نصیحت کی گئی ہے کہ ان میں سے اچھا رستہ اختیار کرے۔اور برے کو اختیار نہ کرے اور دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے اچھے رستہ پر چلائے۔برے رستہ پر نہ چلائے۔اب یہ مضمون ہر شخص سمجھ سکتا ہے اور اس مطلب کو ہر شخص اس سورۃ سے نکال سکتا ہے اس سے کم مطلب قرآن کریم سے نہیں نکال سکتا۔وہ یہ کہ ایک اچھا رستہ ہے جو اسے مل جائے اور ایک برا رستہ ہے جس سے وہ بچ جائے۔جب ایک مسلمان کو اس کے پڑھنے کی اس قدر تاکید کی گئی ہے تو آخر اس کی کوئی وجہ ضرور ہوگی اور اس کا ضرور کوئی مطلب ہو گا ورنہ تاکید بے فائدہ ہو گی۔اس کو متواتر پڑھنے کی تاکید بتاتی ہے کہ اس کی کوئی وجہ ہے۔وہ وجہ یہ ہے کہ انسان اصل میں ہر وقت خطرہ میں ہے۔اور کسی وقت وہ خطرہ سے خالی نہیں چونکہ اسے ہر وقت خدشہ لگا رہتا ہے۔اور وہ ہر وقت خطرہ کے مقام میں ہوتا ہے اس لئے اس خطرہ سے بچنے کے لئے اس سورۃ کو باربار پڑھنے کے لئے اور اس کے مطلب کو اپنی نظر کے سامنے رکھنے کے لئے تاکید کی گئی ہے۔پھر اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو خطرہ سے محفوظ سمجھنا یہ نادانی ہے۔جب انسان اپنے آپ کو محفوظ اور مصون سمجھنے لگتا ہے تو وہ