خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 191

191 اور زندہ رکھا جاتا تو یہ فتنے ظاہر میں فرو ہو جاتے۔کیونکہ جو آپ کی پیشگوئیاں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی فتنہ سو سال کے اندر اندر پاش پاش ہو جائے گا چنانچہ آپ نے لکھا ہے کہ تیری نسل کے آنے تک مسیحیت کا فتنہ پاش پاش ہو جائے گا اور تین نسلوں کے لئے ایک سو سال کا عرصہ لگتا ہے۔اس لحاظ سے اگر حضرت مسیح موعود ایک سو سال اور زندگی پاتے تو یہ فتنہ پاش پاش ہو تا۔پھر ان کے بعد جس شخص کے ذمہ بوجھ رکھا گیا۔اس نے بھی وہ بوجھ اٹھایا اور نہایت عمدگی سے نیا ہا۔اس نے ثابت کر دیا کہ وہ اہل ترین تھا بوجھ کے اٹھانے کے لئے اور وہ عالم ترین تھا جماعت میں سے۔اور حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے میں سب سے پہلے تھا۔مگر وہ بھی جماعت کو پورے طور پر نشو نما پاتے ہوئے نہ دیکھ سکا۔اور اس عمر میں فوت ہو گیا کہ جس عمر کے کئی لوگ اس کے بعد زندہ رہے۔تو جب ہمیشہ رہنے اور لمبی عمریں پانے کا استحقاق رکھنے والے فوت ہو جاتے ہیں تو دوسرے لوگوں کی زندگیوں کا کیا اعتبار ہے جو مستحق نہیں ہیں۔اور اگر پہلے لوگوں کے اٹھنے کے بعد ایسے لوگ نہ ہوں جو سلسلہ کا بوجھ اٹھا ئیں تو کس قدر دکھ کی بات ہے۔پس ہماری جماعت اس وقت ترقی کر سکتی ہے جب ایسے لوگ تیار ہوں جو قطعا " کسی مشکل اور تکلیف کی پروا نہ کرنے والے ہوں اور نہ وہ اس بات کی پروا کرنے والے ہوں کہ کوئی انہیں یاد دلائے بلکہ وہ ہر ممکن قربانی کے لئے تیار ہو جائیں۔اور پھر ہر بیرونی دشمن کے مقابلہ میں خطرناک سے خطرناک قربانیوں کے لئے تیار ہو جائیں۔مگر میں نے بتایا ہے کہ یہ بات ہماری جماعت میں ابھی بہت کم ہے۔بے شک اخلاص والے نظر آتے ہیں مگر وہ نہیں نظر آتے جن کا اخلاص اس مقام پر پہنچ گیا ہو کہ جو خطرناک قربانیوں کے لئے تیار ہوں اور کسی کی یاد دہانی کے محتاج نہ ہوں کیونکہ خالی ایمان اور خالی اخلاص ترقی کا موجب نہیں ہوتا۔پس جب تک ایسے مخلص نہ ہوں تب تک ہماری جماعت کی حفاظت نہیں ہو سکتی اور وہ ہر وقت خطرہ میں ہے۔بعض قومیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا کوئی محافظ نہ بھی ہو تب بھی وہ گرتی پڑتی دنیا میں قائم رہتی ہیں اور مٹتی نہیں۔ایسی قوموں کے افراد کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں جن کا مٹانا مشکل ہوتا ہے۔مثلاً ہندو ہیں۔وہ کئی کروڑ کی تعداد میں ہیں۔اسی طرح عیسائی ہیں پھر مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔باوجود اس کے کہ ان کا کوئی امام نہ تھا۔وہ کسی کی اطاعت اور فرمانبرداری نہیں کرتے تھے۔مگر پھر بھی وہ قائم رہے۔مگر تمہاری تعداد جو ہے اس کے لحاظ سے تو تم بغیر کسی زبردست انتظام اور زبردست قربانیوں کے دس سال بھی زندہ نہیں رہ سکتے اگر زبردست انتظام نہ ہوگا اور زبردست قربانیاں نہ ہونگی۔تو پھر دو ہی صورتیں ہونگی۔یا تو تم غم و غصہ میں کڑھ کڑھ کر مرجاؤ گے۔یا پھر احمدیت کا نام اپنے اوپر سے ہٹا دو گے اور دوسروں میں شامل ہو جاؤ گے۔