خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 186

186 ہیں یا اس کی خبر گیری سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر وہ اس معالمہ میں ایسا نہیں کرتے تو دین میں ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔یا کیوں ایسا ہوتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ کوئی اسے دینی کام کرنے کے لئے یاد دلانے والا نہیں اور کوئی محرک نہیں۔کیا بچہ کی خبر گیری کرنے کے لئے یا اور ایسے ہی ضروری کاموں کے لئے اسے یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے؟ اسے یہ یاد دلانے کے لئے کہ تم اپنے گھر کا فلاں کام کر دیا اپنے بچہ کی خبر گیری کرو۔اس کے کتنے سیکرٹری ہیں اور کتنے پریذیڈنٹ ہیں جو اسے یاد دلاتے ہیں کہ اپنے بچہ سے محبت کر دیا خود تم کھانا کھاؤ۔اگر خدا کا کام تم اپنا کام سمجھو تو پھر کسی کے یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔پس جب تک تمہارے دل میں خدمت دین کے لئے کم از کم اتنی ہی تڑپ نہ پیدا ہو جتنی کہ اپنے گھر کے کاموں کے لئے ہوتی ہے تب تک تم کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔کوئی تم میں سے کہتا ہے کہ ہم مسجد سے دور چلے گئے اس لئے نماز با جماعت چھوٹ گئی یا کسی نے خبر نہ کی۔ہم کہتے ہیں کہ کسی کے یاد نہ دلانے سے کھانا کھانا کیوں نہیں چھوٹ گیا۔وہ کہے گا کہ روٹی کی بھوک اندر سے لگتی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ دین کی محبت معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے اندر سے پیدا نہیں ہوتی اس لئے کسی کی یاد دہانی کا تم اپنے آپ کو محتاج سمجھتے ہو۔پس جو اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے یا اپنے آپ کو مومن بنانا چاہتا ہے اس کے لئے میں یہ جتاتا ہوں کہ ہر ایک دینی کام کو اپنا فرض سمجھو اور پھر اسے اپنا کام خیال کرو۔نہ کسی کے یاد دلانے کی ضرورت ہو۔نہ کسی کے چڑانے یا روکنے سے اس کام کو چھوڑ دو۔کیا تم اپنے کام میں کسی کے یاد دلانے کی ضرورت سمجھتے ہو۔پھر کیا وجہ ہے کہ دینی کاموں میں بار بار کسی کے یاد دلانے کی ضرورت محسوس کرتے ہو یا شر میں لگائی جاتی ہیں اگر دین تمہارا ہے تو پھر کوئی شرط نہیں تم لگا سکتے۔سارے کا سارا دینی کام جب تمہارا کام ہے تو اسے اسی شوق و محبت سے کرو جس شوق و محبت سے دنیا میں اپنا کام کیا جاتا ہے۔یہ خلاصہ ہے مومن کے کام کا۔اگر اسی طرح کام کیا جائے تو جماعت اس تیزی سے ترقی کر سکتی ہے کہ ایک تیز سے تیز ترین بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔مگر ایسے لوگوں نے کیا کام کرنا ہے جو کچھ کام ہو دوسروں کے ذمہ لگا دیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ کام ہمارے کرنے کا نہیں۔فلاں لوگ کریں گے۔اور کچھ کام جو اپنے ذمہ لیتے ہیں انہیں بھی اس وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں کہ فلاں نے انہیں کیوں بار بار ان کاموں کے لئے کہا۔اگر یاد نہ دلایا جائے تب تو یہ شکایت کہ کیوں یاد نہ دلایا گیا۔اور اگر یاد دلایا جائے تب یہ شکایت کہ بار بار کیوں یاد دلایا جاتا ہے۔ایسی کوری و غافل قوم کب دنیا میں ترقی کر سکتی ہے۔ایک تو پہلے کام کو تقسیم کر کے دوسروں کے ذمہ ڈال دیا اور پھر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور قیامت یہ کہ جو کام اپنے ذمہ رکھا اس کے متعلق اگر کوئی یاد دلائے تو کہتے ہیں کہ ہمارے پیچھے پڑ گئے ہماری ہتک ہو گئی ہمیں ذلیل کر دیا۔ان