خطبات محمود (جلد 8) — Page 183
183 پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ ہر دینی کام ہر مومن کا کام ہے۔تو اب سوال یہ رہا کہ مذہبی کام کس طرح کریں۔یہ سوال آسانی سے حل ہو جائے گا۔اور میری اس تمہید کی یہی غرض تھی کہ میں تمہارے دلوں کو اس طرف لاؤں کہ جبکہ تمام احکام ہمارے لئے ویسے ہی فرض ہیں جیسے نبی کریم صلعم کے لئے تو کیا وجہ ہے کہ ہم ان احکام کے بجا لانے میں سستی کریں۔میں تو کہتا ہوں کہ کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اگر یہ بھی خیال کرے کہ ان کی وجہ سے ہم احکام الہی پر عمل کرتے ہیں تو یہ بھی شرک ہے شرک سے پورا مجتنب اور پورا موحد انسان تب ہی بن سکتا ہے کہ اس کو یہ یقین ہو کہ میرے اور خدا کے درمیان کوئی وسیلہ نہیں۔باقی یہ کہ اس نے خود اپنے ایک بندہ کو اپنے دوسرے بندوں کی راہنمائی کے لئے مقرر کر کے بھیجا۔یہ تو خدا تعالیٰ کی کمال محبت کا ثبوت ہے کہ اس نے ایک طاقت ور کو کمزور بندوں کے لئے مقرر کر دیا وہ تو خدا کی مخلوق کی خدمت کے لئے مقرر کئے گئے اور یہ اللہ تعالیٰ کی خاص محبت کی نشانی ہے۔ہاں وہ اس خدمت کی وجہ سے انسانوں کے مخدوم بن گئے کیونکہ ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد۔ورنہ خدا کی طرف سے تو وہ اسی لئے مقرر ہیں کہ لوگوں کو اٹھائیں اور خدا تک لے جائیں۔وہ لوگوں کے پیغامبر ہیں۔معین ہیں۔وہ ستون اور سمارا تو ہیں لیکن وہ انسانوں میں اور خدا میں روک نہیں۔یہ نہیں کہ وہی لوگوں کے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی وجہ ہیں۔بلکہ وہ تو اس لئے آئے کہ لوگ جو خدا تعالیٰ سے دور تھے ان کو قریب لائیں کیونکہ خدا تعالی یہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے گرے رہیں۔جیسے زمیندار گیہوں کو کاتا ہے اور اس کے بعض حصے زمین پر گرے رہ جاتے ہیں تو زمیندار سے اس حصہ کے رہ جانے سے یہ مطلب نہیں کہ اس کا مقصد ہے کہ وہ حصہ گرا رہے بلکہ اس کا مقصد تو یہی تھا کہ تمام کا تمام لے جائے۔اسی طرح جو بندہ چھوڑا جاتا ہے وہ خود رہتا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے مقصود و مطلوب تو تمام انسان ہیں۔پس ہر انسان کی طرف اسی طرح کلام الہی نازل ہوا ہے۔جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔باقی اپنی اپنی طاقتوں کا فرق ہے۔حکم میں کوئی فرق نہیں۔اور یہ جو میں کہتا ہوں کہ حکم میں کوئی فرق نہیں۔حکم میں سب برابر ہیں۔اس کی میں نے پہلے بھی کچھ تشریح کی ہے۔اور اب پھر جتاتا ہوں کہ کسی کی طاقت اگر ہم ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے لئے حکم بھی کم ہے بلکہ حکم تو سب کے لئے برابر ہے لیکن جو شخص کمزور ہے وہ کم کام کرتا ہے مگر اس سے اس پر کوئی حرف نہیں آتا۔مثلاً ہم لوگوں کو کہیں کہ جتنا تمہارے پاس روپیہ ہے وہ سب کا سب دین کے لئے دے دو۔اب ایک کی جیب میں دس روپے ہوں وہ دس ہی دے گا اور دوسرے کی جیب میں اس سے کم ہوں تو وہ کم ہی دے گا۔اب دس والے نے اس لئے دس نہیں دئے کہ اس کو حکم تھا زیادہ دیوے