خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 18

18 4 خانہ خدا کی تعمیر اور احمدی مستورات کی ذمہ داریاں فرموده ۱۲ فروری ۱۹۲۳) سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔دنیاوی معاملہ میں جس طرح کہ یورپین امریکن افریقن ایشائی لوگ برابر ہیں۔اور جس طرح کہ ہر رنگ ہر زبان ہر ملک وملت کے ساتھ تعلق رکھنے والے کو ایک نظر سے دیکھنے کا حکم ہے۔اسی طرح دین کے معالمہ میں عورت و مرد مساوات رکھتے ہیں یعنی جس طرح دینی احکام مردوں کے لئے نازل ہوئے ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے بھی نازل ہوئے ہیں۔سورہ فاتحہ جو جڑ ہے قرآن کریم کی اور جو گویا ایک اجمال ہے اس کے مضامین کا اور متن ہے قرآن مجید کا۔اس کے بیان میں اللہ تعالی نے کس حکمت سے کام لیا ہے۔جہاں دعا سکھائی ہے اور اس میں جو مضمون ترقیات کے متعلق ہے اس کو اس طرح ڈھالا ہے کہ اس میں عورت و مرد کا اشتراک رکھا ہے۔گو عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ جب قوم کو مخاطب کیا جائے تو اس میں مذکر کے صیغے استعمال ہوتے ہیں۔جن میں عورتیں شامل سمجھتی جاتی ہیں۔لیکن سورۃ فاتحہ میں الفاظ ہی ایسے رکھے ہیں کہ جس میں مرد و عورت دونوں مساوی ہیں اور دونوں کا ان میں اشتراک ہے مثلاً ایاک نعبد و ایاک نستعین رکھے ہیں۔جن کو جس طرح مرد بول سکتے ہیں اسی طرح ان کو عورتیں بھی استعمال کر سکتی ہیں۔اور اس میں دونوں کی مساوات رکھی۔اس کی ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ اس میں عورت و مرد دونوں محاورہ کے لحاظ سے بھی شامل ہیں۔یعنی اکیلے مرد بھی وہی الفاظ بولیں گے اور اکیلی عورتیں بھی وہی الفاظ کہیں گی۔اور جس طرح بعض احکام مردوں کے لئے خاص ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے بھی خاص احکام ہیں۔خاص احکام سے یہ مراد نہیں کہ خاص مرد ہی اللہ تعالیٰ کے مخاطب ہیں۔بلکہ اس سے یہ مطلب ہے کہ اگر مردوں کے لئے بعض احکام خاص ہیں تو عورتوں کے لئے بھی بعض احکام خاص ہیں۔اور ایک وہ احکام ہیں جن میں مرد عورت دونوں مساوی ہیں۔مثلاً خطبہ جمعہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے ہے۔اسی طرح خطبہ عیدین بھی دونوں کے لئے ضروری ہے۔