خطبات محمود (جلد 8) — Page 152
152 مثلاً جب انسان باپ کے جسم میں ہوتا ہے اس وقت اگر وہ احتیاطیں نہ کی جائیں جن سے نطفہ پیدا ہوتا ہے تو انسان پیدا نہیں ہو سکتا کیونکہ نطفہ ساتھ کے ساتھ مرتا جاتا ہے۔اسی طرح جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت اگر ضروری احتیاطیں نہ کی جائیں تو ماں کے پیٹ میں ہی مرجائے گا اور دنیا میں نہ آئے گا۔پھر جب پیدا ہوتا ہے اس وقت اگر مناسب احتیاطیں نہ کی جائیں یا وہ احتیاطیں کی جائیں جو بلوغت میں کرنی چاہئیں تو بھی نہیں بچے گا یا پھر جب اس کے دانت نکل آئیں اس وقت اس کے لئے وہ احتیاطیں کی جائیں جو دودھ پیتے بچے کے لئے ضروری ہوتی ہیں یا بلوغت کے قریب پہنچے ہوئے بچے کے لئے۔تو یا تو وہ مرجائے گا یا اس کی جسمانی اور دماغی حالت بہت کمزور ہو جائے گی۔پھر جب وہ بلوغت کو پہنچے اس وقت اگر وہ احتیاطیں کی جائیں گی جو بھرپور جوانی میں کرنی چاہئیں یا جو بچپن کے لئے مناسب ہیں تو یا تو اس کا جسم ضائع ہو جائے گا یا روح ضائع ہو جائے گی۔یہی ہر حالت کا حال ہے۔تب ہی اور صرف تبھی ترقی ہو سکتی ہے جبکہ ہر زمانہ کے حالات کو مد نظر رکھا جائے اور ان کے مطابق پر ہیز کیا جائے۔جس طرح انسانوں میں یہ تغیرات ہوتے ہیں اسی طرح قوموں میں بھی ہوتے ہیں۔قوموں کی حالت بھی ایک وقت نطفہ کی ہوتی ہے۔قومیں بھی ماں کے پیٹ میں بچہ کی طرح ہوتی ہیں۔قومیں بھی بالغ ہوتی ہیں۔ادھیڑ عمر کو پہنچتی ہیں۔بوڑھی ہو جاتی ہیں اور اس حالت کو بھی پہنچ جاتی ہیں کہ جس طرح کہتے ہیں فلاں انسان مر گیا۔اسی طرح قومیں بھی مرجاتی ہیں اور جس طرح انسانوں سے مختلف حالات میں مختلف سلوک ہوتا ہے اسی طرح قوموں کے لئے بھی ایسا ہی ہونا ضروری ہے ورنہ اگر نگران اس بات کا خیال نہ رکھیں تو تو میں بھی ترقی نہیں کرتیں بلکہ مرجاتی ہیں۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے اور خدا تعالیٰ کا قانون جس طرح اوروں پر چلتا ہے اسی طرح ہمارے اوپر بھی چلتا ہے۔پیچھے میں نے جو کچھ بنایا ہے۔یہ خدا تعالی کا قانون ہے کسی بندہ کا بنایا ہوا نہیں۔اگر کسی بندہ کا بنایا ہوتا تو انسان چونکہ وہ ظلمتیں نہ سمجھتے جو خدا تعالیٰ نے اس قانون میں رکھی ہیں۔اس لئے وہ تو یہی تجویز کرتے کہ ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔یوں ہی پیدا ہو جایا کرے۔پھر بچپن کی حالت کی کیا ضرورت ہے پورا انسان پیدا ہو جائے۔پھر کہتے موت کی کیا ضرورت ہے انسان ہمیشہ زندہ ہی رہے۔حالانکہ انسان کی ساری ترقی انہی تغیرات پر ہے۔ان تغیرات کو اگر اٹھا دیا جائے تو ساری ترقی بیخ و بن سے اکھڑ جاتی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے اور جس طرح یہ قانون انسانوں کے لئے ہے اسی طرح قوموں کے لئے بھی ہے اور اس سے ہم آزاد نہیں ہو سکتے۔بندوں کے قانون سے آزاد ہو سکتے ہیں۔لیکن خدا کے قانون سے آزاد نہیں ہو سکتے۔اگر افغانستان کی حکومت کوئی قانون بناتی ہے تو