خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 56

۵۶ 14 قومی نصب العین کے لئے جدوجہد (فرموده ۳ / جون ۱۹۲۱ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ : کو پچھلے دنوں حلق کی تکلیف کے باوجود ایک ضرورت کے موقعہ پر کسی قدر لمبی تقریر کرنے کی وجہ سے پھر گلے کی شکایت زیادہ ہو گئی ہے۔اور چند دنوں سے بخار میں بھی زیادتی ہے۔مگر چونکہ آج کا دن خصوصیت رکھتا ہے۔اور یہ مبارک زمانہ اور مبارک مہینہ جو اس فضل کی یاد دلاتا ہے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ ہم تک پہنچا۔ختم ہونے والا ہے۔اور ایک لمبے عرصہ کے لئے پھر ان خاص گھڑیوں کی انتظار ان لوگوں کو کرنی پڑے گی جو زندہ رہیں گے۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ بعض باتیں سناؤں۔دنیا میں انسان ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں۔غلطیاں بھی کرتے ہیں اور کسی پیشہ اور فن کے لوگ نہیں جو غلطیاں نہ کرتے ہوں۔مگر باوجود اس کے ان کے کام کی قدر گر نہیں جاتی۔کوشش ضائع نہیں ہوتی۔طالب علم جو مدرسہ میں جاتا ہے۔کتنی غلطیاں کرتا ہے۔وہ پہلے دن ہی علوم کا استاد نہیں ہو جاتا بلکہ پہلے دن تو اس کے منہ سے لفظ بھی صحیح نہیں نکلتے۔بہت بچے ہوتے ہیں۔جو الف کو الف یا الف الیھ یا کچھ اور کہتے ہیں۔اور کبھی لام کا تلفظ یا ف کا تلفظ ادا نہیں کر سکتے۔اور ش، ع ، ق کا ادا کرنا تو بڑی بات ہے۔ان بچوں کا ابتداء میں ٹھوکریں کھانا استاد کے لئے ٹھوکر کا موجب نہیں ہوتا۔کبھی تجربہ کار استاد بچے کے غلطی کرنے سے چڑتا نہیں۔ناواقف شخص کو غصہ آئے گا۔حتی کہ ماں باپ ناراض ہوں گے۔لیکن استاد کو غصہ نہیں آئے گا۔اس لئے کہ ماں باپ تعلیم کے فن سے ناواقف ہیں۔مگر استاد واقف ہے۔اور وہ جانتا ہے کہ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس کے پاس آئے اور وہ ابتدا میں اس نئے طالب علم سے بھی زیادہ غلطیاں کرتے تھے۔مگر آج یہ حالت ہے کہ وہ معلم ہیں۔اور اس کے کان ان کی زبان سے اعلیٰ سے اعلیٰ لیکچر اور نکات سنتے ہیں۔اس لئے وہ جانتا ہے کہ ابتداء میں بچے سے غلطیاں ہونا چڑنے اور غصہ ہونے کی بات نہیں۔