خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 49

۴۹ لوگ خدا کے حضور کرے تو خدا نے سنبھالا۔اور ایسا بار بار ہوا۔لیکن آخر میں مسلمانوں نے گمان کر لیا کہ خدا تو اسی طرح کیا کرتا ہے۔اور اسلام کو بچا ہی لیا کرتا ہے۔وہ مطمئن ہو گئے۔اور اسلام انکے سامنے ڈوب گیا۔اور انہوں نے خبر نہ لی۔جب طوفان اٹھا تو انہوں نے کہا کہ ایسا ہوتا ہی ہے۔اور بچاؤ کی فکر نہ کی۔جہاز گرداب میں پڑا پھر انہوں نے توجہ نہ کی آخر ڈوبنے لگا۔وہ ہنس پڑے کہ کیا ہوا ہم جانتے ہیں کہ جہاز نہیں ڈوبے گا۔آخر جب وہ ذرا ٹس سے مس نہ ہوئے تو جہاز ان کی آنکھوں کے سامنے غرق ہو گیا اور انہوں نے کچھ نہ کیا۔اس وقت ہم مشکلات میں ہیں۔ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ رہی ہیں۔اور تیس ہزار کے بل پڑے ہیں۔اور چالیس ہزار پہلا قرض ہے۔اور باہر مبلغوں کے بھیجنے کی ضرورت ہے۔جب تک خاص جدوجہد نہ کریں گے۔کام درست ہوتا نظر نہیں آتا۔پس ہمیں ضرورت بہت دعاؤں کی ہے۔اور بہت کوشش کی ہے۔میں اس وقت مختصر بولنا چاہتا تھا مگر پھر بھی بہت بول گیا۔اور میرے حلق میں تکلیف بڑھ گئی ہے۔مگر آخر میں دوستوں کو کہتا ہوں۔کہ تکالیف اور مصائب ہر طرف ہیں مگر ہمیں امیدیں بھی بہت ہیں۔اور ہم کامیابی کو بھی گھر کے دروازے پر دیکھتے ہیں۔دعا کرنی چاہئیے۔کہ یہ محض لالچ ثابت نہ ہو۔بلکہ خدا ہمیں ان کامیابیوں کے حاصل کرنے کی توفیق دے۔آمین۔الفضل ۲۱ / اپریل ۱۹۲۱ء) ا تذکره ص ۴۵۸