خطبات محمود (جلد 7) — Page 48
ہے۔ہے۔خوشی اس سے ہے۔کہ بچہ ماں کو پہچانتا ہے۔اور رنج اس کا کہ ماں مدد نہیں کر سکتی۔یہ بھی ظلمت ہے۔کہ ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے۔اور لوگوں کی مخالفت کا طوفان بھی ایک ظلمت غرض ظلمت پر ظلمت ہے۔اگر چہ یہ خطرے کی بات نہیں۔لیکن اس میں شک نہیں کہ اس وقت یہ سوال ہمارے لئے موت اور زندگی کا سوال ہے۔اس میں شبہ نہیں۔کہ یہ خدا کا کام ہے۔لیکن جب تک بندہ اپنا کام نہ کرے۔اس وقت تک خدا اپنا کام نہیں کیا کرتا۔دو کام خدا کے ہوتے ہیں۔پہلے خدا اپنا کام کرتا ہے۔پھر انسان کا کام آتا ہے۔اگر یہ اپنا کام کرے۔تو خدا دوسرا اپنا کام کر دیتا ہے۔اس بات پر قرآن میں اتنا زور دیا گیا ہے۔جس کی حد نہیں۔قرآن کریم کی ہر سورت کے ابتداء میں اسی مضمون پر زور دیا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے بسم الله الرحمن الرحيم کہ اللہ کے نام سے شروع کرتے ہیں۔جو پہلے رحمانیت کے ماتحت کام کر کے ہمیں ہر قسم کے سامان عنایت کرتا ہے۔چنانچہ اس نے ہمیں مسیح موعود دیا ہمارے لئے علم کے دروازے کھول دیئے۔ہمیں ہدایت دی۔یہ اس کی رحمانیت ہے آگے رحیم ہے۔اس صفت کا تقاضا ہے کہ جب اس کے ماتحت خوب کام کریں گے تو پھر وہ ہمارے لئے کام کرے گا۔پہلا کلام اس کی طرف سے ہو چکا ہے اب اگر ہم اس اپنے کام کو نہ کریں۔تو وہ اپنا دوسرا کام نہیں کرے گا۔سورہ فاتحہ کی ابتداء میں بھی مضمون پر زور ہے۔اور تمام قرآن میں بھی اس مضمون پر زور دیا گیا ہے۔اسی ہے۔بلکہ وہ ہم میں اگر کرب ہو گا۔ہم اگر اس کی طرف رجوع کریں گے۔اور اس کے حضور گریں گے۔تو وہ ہمیں اٹھائے گا۔لیکن اگر ہم مطمئن ہو جائیں۔اور اپنے آپ کو اس کے فضلوں کا جاذب نہ بنائیں۔تو پھر ہم انعام نہیں پا سکتے۔اور خدا اپنا کام جو ہمارے متعلق ہے نہیں کرے گا۔کیونکہ وہ ہمیں اہل نہیں پائے گا۔ہمارے اس کرب سے خدا کے علم میں اضافہ نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ تو جانتا دوسروں پر ظاہر کرتا ہے۔اور ہماری حالت سے خود ہمیں مطلع کرتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے۔کہ ماں بچے کو مٹھائی دینے کے لئے ہاتھ بڑھاتی ہے۔بچہ لینے کو لپکتا ہے۔وہ ہاتھ ہٹا لیتی ہے۔اگر بچہ مٹھائی لینے کے لئے ضد کرتا اور روتا ہے۔تو دے دیتی ہے۔اگر وہ ہاتھ نہ بڑھائے بلکہ اور طرف متوجہ ہو جائے تو وہ نہیں دیتی۔کیونکہ جان لیتی ہے کہ اس کو ضرورت نہیں۔پس ہمیں کرب پیدا کرنا چاہئیے۔اور اس کے حضور گر کر طلب کرنا چاہئیے۔تب اس کی مدد آئے گی۔مسلمانوں سے یہی غلطی ہوئی۔کہ وہ خدا کے حضور نہ جھکے۔اور ان میں مصائب اور مشکلات کے وقت کرب پیدا نہ ہوا۔اب ہمیں اس غلطی کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے۔جب تک مسلمانوں کا پہلا حصہ اس حال میں رہا کہ جب دشمن کی طرف سے اسلام پر حملہ ہوا اور حالت نازک ہوئی۔وہ