خطبات محمود (جلد 7) — Page 411
کے لئے مفید ہے۔مثلاً ایک شخص کے رشتہ دار دریا کے پار رہتے ہیں ان میں سے کوئی ایک بیمار ہے۔دریا پر پل نہ ہو اور دریا زور پر ہو تو وہ اپنے رشتہ دار کی خبر نہیں لے سکتا۔یا ایک شخص کی دریا کے پار تجارت ہے مگر دریا میں پانی زیادہ ہو تو وہ دریا کے پار نہیں جا سکے گا۔یا کسی شخص نے دریا کے پار اپنی ملازمت پر جاتا ہے دریا میں طغیانی ہے۔وہ کس طرح جا سکتا ہے۔لیکن جب دریا پر پل بن گئے۔تو دریا کے پار جانا ان کے لئے کچھ بھی مشکل نہ رہا۔باوجود اس قدر مفید ہونے کے لوگ جب پل بن رہا ہو پیسہ خرچ کر کے اس کو دیکھنے کے لئے نہیں جاتے۔اگر کہا جائے۔کہ فلاں دریا پر انجینر پل بنا رہے ہیں۔چلو دیکھو۔تو لوگ کہیں گے کیا ہماری عقل ماری گئی ہے کہ وہاں وقت ضائع کریں۔اگر کسی بھلے مانس کو کچھ دیا بھی جائے کہ وہ جا کر دیکھے تو وہ کہے گا میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے۔پس گو اس کام کا اثر ہے۔مگر اس کو دیکھنے کے لئے لوگوں میں جوش پیدا نہیں ہوتا۔معمار ایک مکان تعمیر کرتا ہے اور خاموشی سے اینٹ پر اینٹ لگاتا چلا جاتا ہے۔اور کام ختم ہو جاتا ہے۔اس کا کام دس میں سال اور بعض اوقات صدیوں تک فائدہ پہنچاتا ہے۔مگر اس پر لوگوں کا انبوہ اور شوروغل نہیں ہوتا اور نہ بناتے وقت اس کی کوئی واہ واہ ہوتی ہے۔ایسے کام کی پہلے سے بالکل الٹ حالت ہے۔پہلے کا نتیجہ کچھ نہ تھا۔مگر واہ واہ اور تعریف بہت تھی۔اس کی کوئی واہ واہ اور تعریف نہیں ہوتی مگر دانا انسان وہ ہے جو تعریف اور واہ واہ پر نہیں جاتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں اس کے نتائج کیسے ہیں۔جس کام کا نتیجہ کچھ بھی نہیں خواہ اس پر کتنی ہی تعریف ہو وہ خوش ہونے کے قابل نہیں مگر وہ کام جس پر تعریف کچھ نہ ہو لیکن اس کے نتائج اچھے ہیں وہ قابل توجہ ہے پس وہ کام جس کے نتائج اچھے ہیں اس کے لئے لوگ برا بھلا کہتے ہیں۔ہمدردی نہیں کرتے۔مگر اس کے اچھے نتائج ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ انسان اس کام کو کرے۔بعینہ یہی حال دین کے کاموں کا ہے۔دنیا کے بعض کاموں میں بھی واہ واہ زیادہ ہوتی ہے۔لیکن عقلمند وہی ہے جو نتیجہ کو دیکھے اگر ایک شخص کے کام پر واہ واہ بہت ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ کچھ نہیں۔تو وہ کام قابل قدر نہیں۔لیکن اگر ایک کام سے اچھے نتائج نکلنے کی امید ہے اور نتائج اچھے نکلتے ہیں لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں تو پروا مت کرے۔اور اگر تعریف کرتے ہیں۔مگر نتیجہ کچھ نہیں تو وقت کھونا ہے۔تو دین کے کاموں میں بھی دونوں پہلو ہیں۔ایک میں واہ واہ بہت ہوتی ہے۔مگر ایک میں واہ واہ کچھ نہیں۔البتہ اس کے نتائج اعلیٰ درجہ کے ہیں۔تبلیغ بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک مبلغ وہ ہوتا ہے جس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے تعریف کرائے۔وہ اپنی تقریر میں لطیفے اور چکلے بیان کرتا ہے۔لوگ اس کی تقریر سن کر ہنتے اور خوش ہوتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں مگر ایسی تقریر سن کر جب لوگ گھر جاتے ہیں تو اس کا