خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 356

۳۵۶ چڑھوا دیا۔ان لوگوں کو جھوٹ بولنے اور الزام لگانے میں ذرا بھی شرم و حیا نہیں آتی۔اس شخص کو خیال کرنا چاہئیے کہ اگر ایسا ہی قصہ کوئی شخص نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لکھے کہ آپ کی قبر پر گوشالہ بنایا گیا ہے۔تو ایسے خبیث انسان کو مسلمان کیا کہیں گے۔یہ لوگ اس شخص کو جو کچھ کہیں گے۔وہی خود اس کو اپنے متعلق سمجھنا چاہیئے۔کا لیکن ان کے اس قسم کے اقوال اور ان حرکات سے جہاں ہمیں افسوس ہوتا ہے وہاں خوشی بھی ہوتی ہے کہ رسول کریم کی پیشگوئی پوری ہوئی اور اس پیشگوئی نے تیرہ سو برس بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر گواہی دے دی کہ وہ جھوٹے اور مفتری نہ تھے۔کیونکہ آپ نے جب یہ فرمایا کہ تم مغضوب اور ضال ہو جاؤ گے۔تو اس وقت آپ کے سامنے وہ لوگ تھے جو آپ پر جان دینے والے تھے۔یعنی ابو بکر ، عثمان ، عمر ، علی ، طلو ، زبیر زید ابو ہریرہ سعد بن عبادہ ، جیسے لوگ تھے جو دشمن کے مقابلہ سے ہٹتے نہ تھے۔اور اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کرنے والے تھے اس وقت اس پیشگوئی کے بیان کرنے کا یہی مطلب تھا کہ آئندہ رسول کریم کی طرف منسوب ہونے والے ایسے لوگ ہونگے۔چنانچہ اب ایسے لوگ ظاہر ہو گئے اور انہوں نے یہود کی مثال کو زندہ کر دیا۔اور حسن نظامی نے ثابت کر دیا کہ وہ یہود کے قدم بقدم چل رہا ہے۔ایک وقت میں ابو جہل نے جو کیا ہے۔کوئی تعجب نہیں اگر آج حسن نظامی وہی حرکتیں کرتا ہے۔لیکن اس میں ایک سبق اور ایک عبرت ہے۔خوشی اس بات کی ہے کہ جو یہود نے مسیح اول سے کیا وہی ان لوگوں نے مسیح ثانی کے متعلق کیا۔مگر رنج اس بات کا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے لوگوں کی یہ حالت ہو گئی۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی حالت سے سبق حاصل کرے۔اور اپنے اخلاق کی نگرانی کرے۔کہ یہ نتیجہ کثرت سے گندے اور جھوٹے قصے پڑھنے اور لکھنے کا ہے ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ ناول یا قصے لکھنے سے پر ہیز کرے۔کیونکہ جن کو جھوٹ کی عادت ہو جاتی ہے۔اس کے دل سے صداقت کی قدر نکل جاتی ہے۔اور پھر اس کا قدم خطرناک باتوں کی طرف اٹھ جاتا ہے۔گو نادانوں سے فائدہ بھی ہوا ہے مگر یورپ کے لوگوں کا کثرت سے ناول لکھنے اور پڑھنے کا باعث یہ حال ہو گیا ہے کہ ان میں سے صداقت مٹ گئی ہے۔چونکہ مسلمان بھی قصوں میں پڑ گئے ہیں اس لئے ان کو جھوٹ بولتے ہوئے ذرا بھی خیال نہیں آتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں یہی حال انکی تفسیروں کا ہے ان میں روائتیں بھری ہوئی ہیں۔اور اب یہ لوگ جھوٹ شیر مادر کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ اس شغل سے پر ہیز کرے۔اللہ تعالٰی ہماری جماعت کو کہ یہ اس کی آخری جماعت ہے فتنہ سے بچائے۔(الفضل 6 ستمبر ۱۹۲۲ء) ا کتاب الخراج بحوالہ پر بینک آف اسلام مصنفه تامس آرنند مخلوة 1 - سابع تاب الانذار وا خذی باب تغير الناس