خطبات محمود (جلد 7) — Page 357
۳۵۷ 67 ہماری ذمہ واری عظیم الشان ہے (فرموده ۸ / ستمبر ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔انسان جب کوئی کام شروع کرتا ہے تو پہلے اندازہ کر لیتا ہے کہ کتنا بڑا کام ہے۔اس کے مطابق پھر وہ اپنی طاقت خرچ کرتا ہے۔اگر کام بڑا ہو تو زیادہ محنت اور کوشش کرتا ہے۔اور اگر چھوٹا ہو تو اس کے مناسب زور لگاتا ہے یہ بات ایسی ضروری سمجھی گئی ہے۔اور اس کی خلاف ورزی میں اتنے نقصان سمجھے گئے ہیں۔کہ خدا نے ایک ایسی قوت پیدا کی ہے۔جو بتاتی ہے کہ کسی کام کے لئے کتنی قوت ضروری ہے۔جیسے کان ہیں جو سن کے جتاتے ہیں کہ کیسی آواز ہے کس قسم کی آواز ہے اور کس کی آواز ہے۔دیکھو عالم کون ہے وہ جو تاریخ جانتا ہے، زبان، جغرافیہ ، حساب ، ڈاکٹری قانون جانتا ہے۔مگر یہ علوم کہاں سے آئے۔دوسروں نے ذرہ ذرہ ملایا۔کسی نے کوئی چیز معلوم کی کسی نے کوئی وہ سب جمع ہو گئیں اور ہم کانوں کے ذریعہ سنکر ان علوم سے واقف ہو جاتے ہیں۔پھر ہم کانوں کے ذریعہ ہی بولنا سیکھتے ہیں۔جو پیدائشی بہرے ہوں۔وہ بول بھی نہیں سکتے۔کیونکہ انسان کو سنکر ہی آتا ہے پس اگر کان نہ ہوتے تو زندگی دو بھر ہو جاتی۔اور اگر آنکھیں نہ ہوتیں تو علوم رائیگاں جاتے اور انسان ہر وقت خطروں میں پڑا رہتا۔وہ کنویں۔گڑ ہے۔ٹیلے میں تمیز نہ کر سکنے کے باعث ٹھوکریں کھاتا پھرتا۔کان کے ذریعہ سنتا ہے۔مگر کان جو کچھ سنتے ہیں وہ سب محفوظ نہیں رکھ سکتے۔اس لئے قدرت نے آنکھ دی ہے۔جو کتاب سے دیکھ کر پڑھ لیتی ہے۔اس طرح علوم محفوظ ہو جاتے ہیں۔آج جو کتابیں لکھی جاتی ہیں وہ ہزار سال کے بعد بھی پڑھی جائیں گی اور اس وقت کے لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے لیکن اگر صرف زبانی باتیں ہوں تو انسان خود بھی ان سب کو یاد نہیں رکھ سکتا۔پس اگر آنکھیں نہ ہو تیں تو بھی علوم ضائع ہو جاتے۔اور پھر رنگوں کے تغیرات سے جو انسان علوم حاصل کرتا ہے۔وہ بھی نہ کر سکتا۔