خطبات محمود (جلد 7) — Page 281
۲۸۱ روح اوپر کو اپنے ہم جنس فرشتوں کی طرف اڑتی ہے۔پس زیادہ کھانے سے جسمانی حالت میں ترقی آتی ہے۔اس لئے جب رمضان میں جسم کھانا پینا کم کرتا ہے تو روح ملائکہ کی طرف جاتی ہے گو پہلے روح ان کو بھولی ہوئی ہو۔لیکن جب ان کو دیکھتی ہے تو اس طرف جانے کی کوشش کرتی ہے۔جیسے کوئی شخص اپنے رشتہ داروں کو بھولا ہوا ہو لیکن جب ان کو ملتا ہے یا خواب میں دیکھ لیتا ہے تو پھر ان کی محبت غالب آجاتی ہے اسی طرح جب رمضان میں روح کو اوپر جانے کا موقع ملتا ہے تو یہ باقی سال میں بھی اوپر جانے کے لئے جدوجہد کرتی رہتی ہے۔اور اس طرح روزے صفات الہیہ کے پیدا کرنے میں محمد ہوتے ہیں۔انسان کو روزوں میں جو تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ان سے اپنی کمزوری کا علم ہو جاتا ہے ایک تو غریبوں کی حالت معلوم ہوتی ہے۔دوسرے اپنی کمزوری کا بھی پتہ لگتا ہے۔گرمی کی شدت میں جب پانی نہیں ملتا۔اور موت کی سی حالت ہونے لگتی ہے تو اس کو فنا کا خیال آتا ہے۔اور یہ خیال گیارہ مہینہ تک اس کے پیش نظر رہتا ہے۔پس روزوں کے مقرر کرنے میں یہ بھی فائدہ ہے کہ انسان روزے کی تکلیف سے موت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے کیونکہ جب انسان کو اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے تو وہ خدا کی طرف توجہ کرتا ہے۔مشہور ہے کند ہم جنس یا ہم جنس پرواز جسم چونکہ مادی ہے اس لئے مادیت کی طرف جھک جاتا ہے لیکن جب انسان مادی چیزوں سے بچتا ہے تو ملا مکہ کو اس کی طرف توجہ ہوتی ہے پہلے تو یہ تھا کہ ملائکہ کی طرف روح روزوں میں متوجہ ہوتی ہے۔اب یہ ہوتا ہے کہ ملا کہ اس سے تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس کو نیک تحریکیں کرتے ہیں اس کی مثال میں واقعات موجود ہیں۔مثلاً یہی کہ احادیث میں آتا ہے۔رمضان شریف میں جبریل نبی کریم کے ساتھ قرآن کریم کا دورہ کرنے کے لئے آیا کرتے تھے دیکھو جبرئیل تو آپ کے پاس بغیر رمضان کے بھی آیا کرتے تھے لیکن رمضان میں ان کا آنا اور حیثیت کا تھا پہلے دنوں میں بطور فرض کے آتے تھے مگر رمضان میں دوست کی حیثیت سے آتے تھے۔پس رمضان میں انسان کو ملائکہ سے ایک نسبت پیدا ہو جاتی ہے۔۔رمضان کے دنوں میں انسان سحری کے لئے اٹھتا ہے اور اس طرح عبادت کا موقع ملتا ہے اور اس وقت تہجد پڑھتا ہے اور تجد نفس کی اصلاح کے لئے ضروری ہے اگر چہ رمضان میں اٹھتا تو کھانا کھانے کے لئے ہے لیکن اس کو شرم آجاتی ہے کہ جب اٹھا ہوں اور وقت بھی ہے تو کیوں تہجد نہ پڑھوں۔اور جب پڑھتا ہے تو اسے روحانیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ تجد نفسانیت کے توڑنے اور اس کی اصلاح کے لئے ضروری ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان ناشئة الليل هي اشد وطا - المنزل : ۷ رات کا اٹھنا بہت سخت ہے اور نفس کے کچلنے اور اصلاح کرنے کے لئے