خطبات محمود (جلد 7) — Page 251
۲۵۱ 47 مشاورت کے فوائد و آداب (فرموده ۲۱ اپریل ۱۹۲۲ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔اس ہفتہ کے دوران میں ہماری جماعت کی مجلس شوری کا انعقاد ہوا تھا۔شوریٰ تو ہمیشہ ہوتا ہی رہتا ہے۔جس قدر کام ہوتے ہیں ان میں ایسے لوگوں کو جو مشورہ دینے کے اہل ہوتے ہیں۔بلوا کر ان سے مشورہ لیا ہی جاتا ہے مگر موجودہ زمانہ کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر اور آمدو رفت کے ذرائع میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے کام لیتے ہوئے میں نے اپنی جماعت کے ان لوگوں کے قائم مقام بھی بلوائے۔جو قادیان سے باہر رہتے ہیں۔در حقیقت انسانی ترقی کے لئے آپس میں ملنا جلنا اور آپس کے مشورے سے فیصلہ کرنا ایسی لازمی اور ضروری بات ہے کہ اس کے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی۔یہ تمام دنیا جو بنی ہے۔مختلف افراد کی محنتوں کے نتیجہ میں بنی ہے۔مگر ہم کبھی غور نہیں کرتے کہ ہر ایک بات میں دوسروں کے کام کا کہاں تک دخل ہے اگر ہم غور کریں تو سہولت کے ساتھ معلوم ہو جائے کہ در حقیقت تمام دنیا کا کاروبار مختلف افراد کے کام کرنے کا نتیجہ ہے ایک بزرگ کا مقولہ مشہور ہے۔مرزا مظہر جان جاناں ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں جو دہلی کے رہنے والے تھے۔ان کے خلیفہ جو ان کے بعد ہوئے ایک دن ان کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ کوئی شخص لڈو لایا انہوں نے ان لڈوؤں سے دو اٹھا کر اپنے اس شاگرد کو جو انہیں بہت محبوب اور پیارا تھا دئے۔کچھ دیر کے بعد دریافت کیا میاں غلام علی میں نے تمہیں دو لڈو دئے تھے کہاں ہیں اس نے کہا حضور کھالئے۔انہوں نے کہا۔ہیں دونوں کھا لئے اس نے کہا حضور وہ چیز ہی کیا تھے۔چھوٹے چھوٹے تو تھے کہنے لگے کیا سچ سچ تم نے دونوں کھا لئے اس نے کہا ہاں دونوں کھا لئے۔اس پر انہوں نے تعجب کیا۔ادھر تو وہ اس کے کھانے پر تعجب کریں اور ادھر مرید کو تعجب ہو رہا کہ پیر صاحب کہتے کیا ہیں۔ایسے لڈو تو انسان کئی کھا جاتا ہے۔غرضیکہ دونوں حیرت میں تھے۔آخر مرید کو خیال گزرا دریافت تو کروں۔کس طرح لڈو کھائے جاتے ہیں۔اس نے