خطبات محمود (جلد 7) — Page 252
۳۵۳ پوچھا آپ فرمائیے کس طرح کھانے چاہئیے تھے۔انہوں نے کہا۔پھر جب کبھی آئیں۔اس وقت یاد دلانا۔کچھ دنوں کے بعد کوئی شخص پھر لڈو لایا۔شاگرد نے عرض کی آپ نے فرمایا تھا جب لڈو آئیں یاد دلانا کھانے کا طریق بتایا جائے گا اس پر انہوں نے اپنا رومال بچھایا۔اور اس پر ایک لڈو رکھ کے مرید سے مخاطب ہو کر کہنے لگے۔دیکھو یہ لڈو کن کن چیزوں سے بنا ہے۔اس میں میٹھا ہے۔گھی ہے۔میدہ ہے۔اس کے لئے آگ جلائی گئی۔اور اس سے پکایا گیا۔اس آگ کے جلانے میں کئی چیزیں استعمال ہوئیں۔چولھا ہے۔لکڑیاں ہیں۔آگ جلانے والے آدمی ہیں۔برتن، برتن مانجنے والے آدمی ہیں۔تب یہ بنا۔یہ کہہ کر لڈو سے ذرا سا ٹکڑا جو چند رتی کا ہو گا۔توڑا اور کہا کجا مرزا مظہر جان جاناں اور کہاں یہ کام جو اللہ تعالٰی اس کے لئے کرا رہا ہے۔کجا میں اور کجا خدا کی یہ رحمت کہ اتنے لوگوں کو اس نے میری خدمت میں لگا دیا۔یہ کہا اور پھر سبحان اللہ سبحان اللہ کرنا شروع کر دیا۔پھر کہا دیکھو کھانڈ جو اس میں استعمال کی گئی کس طرح مہیا ہوئی اس کے بازار میں لانے میں کتنے لوگ لگے۔کتنوں نے خریدا۔اور کتنوں نے بیچا۔پھر اس کی تیاری کے لئے کیا کیا محنتیں کی گئیں۔کتنے لوگ راتوں کو جاگے۔اور جاگ کر تیار کی۔کہاں سے لکڑیاں لائے اور آگ جلائی، اور کڑا ہوں میں پکایا۔میل صاف کی پھر جن گنوں سے بنی ان کی تیاری میں کتنے لوگ لگے۔کھیتوں میں ہونے اور گھاس جدا کرنے میں کتنے مصروف رہے۔اس طرح کھانڈ بنی اور اتنے آدمی خدا نے اس لئے لگائے کہ مرزا مظہر جان جاناں لڈو کھائے یہ کہہ کر اس بات کا لطف اٹھانے لگے۔اور سبحان اللہ سبحان اللہ پھر کہنے لگ گئے۔پھر کہا اسی پر بس نہیں۔دیکھو وہ لوہا جس سے ہل بنایا گیا کہاں سے لایا گیا اور کس طرح صاف کیا گیا۔اسی طرح ایک ایک بات کو بیان کر کے خدا کی تعریف کرنے لگے اور سب کام کرنے والوں کا ذکر کرنے لگے۔اور اگر دیکھا جائے تو کوئی پیشہ ایسا نہیں رہ جاتا۔جس کا دوسروں کے ساتھ تعلق اور رابطہ نہ ہو۔جو لوگ کام کرنے والے ہوتے ہیں۔وہ بیمار بھی ہوتے ہیں۔اور ڈاکٹر طبیب ان کی خدمت کرتے ہیں اسی طرح بیان کر رہے تھے کہ اتنے میں اذان ہو گئی۔اور لڈو وہیں رکھ کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کچھ کھاتے ہی نہیں تھے۔اگر وہ اسی طرح کھانا کھاتے تھے تو جیتے کس طرح تھے۔دراصل یہ سبق جو انہوں نے اپنے شاگرد کو دیا کہ ہر چیز کھاتے وقت دل میں اس طرح کرنا چاہیے گویا ایک مومن کے دل میں یہ باتیں ہونی چاہئیں جو وہ منہ سے کہہ رہے تھے اور چونکہ وہ زبان سے شاگرد کو سبق دیتے رہے اس لئے کھا نہ سکے۔ورنہ اگر وہ زبان سے نہ بولتے تو ان خیالات کو بھی دل میں دہرا لیتے۔اور لڈو بھی کھا لیتے۔اس طرح انہوں نے بتایا کہ چھوٹے سے چھوٹے کام پر ہزاروں لاکھوں انسان لگے ہوئے ہیں