خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 249

۲۴۹ فرمایا دونوں قسم کے لوگ ظالم ہیں۔وہ بھی ظالم ہے جو کہتا ہے خدا نے اس پر الہام نازل کیا۔حالا نکہ خدا نے نازل نہیں اور وہ بھی جو خدا کا کلام سنے اور کہے یہ معمولی بات ہے ہم بھی ایسی باتیں بنا سکتے ہیں ولو تری انا الظالمون في غمرات الموت والملائكة باسطوا ايديهم اخرجوا انفسکم اور کاش کہ تو دیکھے اس وقت کہ جب ظالم موت کی تکلیف میں ہوں گے ملا نکہ ہاتھ پھیلائے ہوئے ہونگے کہ نکالو جائیں۔فرمایا اس رسول کے دشمن ذلت کی موت مریں گے اور اسے عزت حاصل ہوگی۔یہ اس کی سچائی کی دلیل اور علامت ہے اليوم۔تجزون عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن آياته تستكبرون فرماتا ہے آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔کیونکہ تم اللہ کے متعلق جھوٹی باتیں کہتے تھے۔اور اس کی آیات کا از راہ استکبار انکار کرتے تھے۔یہ عجیب لطیفہ ہے فطرت انسانی کا کہ کلام الہی کا انکار کرنے والے کہا کرتے ہیں۔بندہ سے کہاں خدا کلام کر سکتا ہے۔یہ وہ فروشنی کی وجہ سے نہیں کہتے بلکہ ان کے دل میں تکبر ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس بات سے مستغنی سمجھتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ان کے لئے کوئی نبی آئے جو خدا کا کلام لائے۔خدا تعالی ان کی ظاہر باطن دونوں حالتوں کی وجہ سے انہیں پکڑتا ہے کہ جب تم خود اپنے آپ کو ذلیل قرار دیکر کہتے ہو کہ خدا کہاں بندہ سے کلام کر سکتا ہے۔اور جب ہم عزت دینا چاہتے ہیں تو " تم اس کا انکار کرتے ہو آج ہم خود تمہیں ذلیل کرتے ہیں اور دوزخ میں ڈالتے ہیں۔لیکن چونکہ تمہارے دل میں یہ ہوتا تھا کہ ہم بہت بڑے ہیں ہمیں خدا کی کیا ضرورت ہے کہ وہ ہم سے کلام کرے۔اس لئے تمہارے دل کو بھی ذلیل کرتے اور ذلت کا عذاب دیتے ہیں پس آج تم رسوائی چکھو گے دل میں بھی اور جسم میں بھی۔کیونکہ تم نے ظاہر طور پر اپنے آپ کو ذلیل قرار دیا اور دل میں تمہارے تکبر تھا۔آج اس کے مطابق تم سے سلوک کیا جائے گا۔ولقد جئتمونا فرادى كما خلقناكم اول مرة وتركتم ماخولناكم وراء ظهوركم وما نرى معكم شفعاء كم الذين زعمتم انهم فيكم شرکاء تم اسی طرح ہمارے پاس اکیلے اکیلے آئے۔جس طرح تم کو اکیلا پیدا کیا گیا تھا۔بھلا تمہاری کوئی ہستی تھی جس پر تم خدا کے مقابلہ میں تکبر کرتے تھے۔خدا تعالیٰ نے یہ عجیب بات بیان فرمائی ہے نبیوں کے مقابلہ میں ان کے مخالفین کے پاس بڑی بات یہی ہوتی ہے کہ وہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں نہ ان کے پاس مال ہے نہ جبھہ۔اکیلے اور غریب ہیں۔ان کی پیروی کس طرح کریں۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے اب تم اپنی حالت دیکھو کیا وہ جبھہ