خطبات محمود (جلد 7) — Page 230
روپیہ زمین داری میں لگا دیتا ہے۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص ان دونوں کو پسند نہ کرے۔وہ کوئی ہنر اور پیشہ سیکھ کر اس سے زندگی بسر کرتا ہے۔پھر ہو سکتا ہے کہ کوئی آزاد پیشہ اختیار نہ کرے نوکری کرلے۔پھران کے علاوہ ان کاموں کی اور قسمیں ہیں ایک زمیندار کی مرضی ہے کہ چاہے گیہوں ہوئے۔چاہے روئی۔ایک تاجر کی مرضی ہے کہ خواہ کپڑے کی تجارت کرے خواہ غلہ کی پرچون کی تجارت کرے، مشینوں کی کسی چیز کی کرے اس کی مرضی ہے۔اسی طرح ایک ملازم کا اختیار ہے کہ اگر اس کا دل چاہے تو ریلوے میں نوکری کرے۔اور اگر اس کو پسند نہیں کرتا تو ڈاک خانہ میں کر لے۔اگر اس کو بھی پسند نہیں کرتا تو کچری میں کرلے۔یہی حال پیشوں کا ہے۔چاہے کوئی نجاری کرے یا معماری۔چاہے کوئی ڈاکٹری کرے یا وکالت اختیار کرے۔کوئی پیشہ اختیار کرے۔یہ اس کے اختیار کی بات ہے۔مگر یہ کام جو ہمارے سپرد ہوا ہے۔یہ ان کاموں میں سے نہیں ہے جن کو بدلا جا سکتا ہے۔اس کا بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔جس طرح کسی کے اختیار میں یہ تو ہے۔کہ جو پیشہ چاہے اختیار کرے۔اور جو کام پسند کرے وہ کرے لیکن کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ قانون قدرت نے جو ذرائع ان پیشوں اور کاموں میں کامیابی کے حصول کے مقرر کئے ہیں ان کو چھوڑ کر اور طرف نکل جائے۔یہ بات تو اس کے اختیار میں ہے کہ ایک دفتر کی کلر کی نہیں کرنا چاہتا۔تو دوسرے کی کرلے۔مگر وہ یہ نہیں کر سکتا کہ آنکھوں سے لکھے اور ہاتھوں سے دیکھے۔اسی طرح اس بات میں ہمارا اختیار نہیں ہے کہ اس زندگی کا اصل مقصد کوئی اور قرار دے لیں۔انسان کی زندگی کی مثال اس مسافر کی طرح ہے۔جس کو ایک جگہ بتا دی جائے۔اور کہہ دیا جائے کہ تم فلاں جگہ پہنچو۔اور اسے راستہ میں ٹھہرنے اور گزرنے کی منزلیں بھی بتا دی جائیں۔اب اسے یہ تو آزادی ہے۔کہ سڑک کے خواہ دائیں پہلو پر چلے یا بائیں پر۔اور یہ بھی وہ کر سکتا ہے کہ کسی جگہ ٹھر کر آرام کرے۔لیکن یہ نہیں کہ جہاں اسے پہنچنا ہے۔اسے چھوڑ کر کسی اور طرف چل پڑے۔اسی طرح انسان کی مثال ہے۔انسان کو بتا دیا گیا ہے۔کہ اسے خدا تعالی کو ملنا اور اس تک پہنچنا ہے۔اس کے لئے اسے راستہ اور راستہ کی منزلیں بتا دی گئی ہیں۔کہ اس طریق سے جانا ہے اور یہ شریعت ہے۔باقی اسے آزادی دے دی گئی ہے کہ عمدہ کپڑے پہنو یا اونی۔اعلیٰ کھانا کھاؤ یا معمولی جو میسر ہو اسے جس رنگ میں چاہو استعمال کرو۔مگر اصل مقصد کو نہیں بھولنا۔اور اس کی مقررہ منزلیں نظر انداز نہیں کرتیں۔یعنی احکام شریعت کو نہیں چھوڑنا۔ان میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا پس انسانی زندگی کا یہ ایسا مقصد ہے جس میں آدم سے لیکر اب تک کوئی تبدیلی نہیں کر سکا۔دنیا نے بڑی ترقی کی ہے۔اور بڑی بڑی اہم باتوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکا۔پھر یہ ایسا مقصد نہیں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاصل کر لیا تو اور کسی کو اس