خطبات محمود (جلد 7) — Page 229
44۔ہر مومن خلیفہ اللہ ہے (فرمود ۱۷ مارچ ۱۹۲۲ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔میں نے بارہا اپنے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے۔اور اب پھر دلاتا ہوں۔کہ ہم نے ایک خاص اور اہم کام اپنے ذمہ لیا ہے۔اور یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہمیں یہ کام کرنا ہے۔اور نہ صرف یہ کہ ہم نے کرنا ہے بلکہ یہ کہ ہماری ترقی ہماری بہبودی اور ہماری کامیابی کے لئے اس کا پورا ہونا از بس ضروری ہے۔پھر یہی نہیں۔بلکہ اس سے زیادہ یہ کہ اگر ہم اس کام کو نہ کریں گے تو ہماری ناکامی اور نامرادی کا ٹھکانا نہیں۔وہ کام کیا ہے؟ یہی کہ اسلام کو یعنی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کو اور خداتعالی سے تعلق کے رشتہ کو ہم اپنی ذاتوں میں ہی مضبوط نہ کریں گے بلکہ دوسروں میں بھی اسے قائم کریں گے۔اور ان کے دلوں میں اس رشتہ کو مضبوط کر دیں گے۔یہ کام کوئی معمولی کام نہیں پھر یہ کوئی ایک دن میں یا دو دن میں یا تین دن میں ہونے والا کام نہیں اور کسی معمولی کوشش کے نتیجہ میں اس میں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔بلکہ یہ بہت بڑا کام ہے۔جو ایک نسل کے کرنے کا بھی نہیں دو نسلوں کے کرنے کا بھی نہیں۔بلکہ یہ ایسا کام ہے۔کہ ہر نسل جو آئے گی۔اسی کا یہ کام ہو گا۔کیونکہ یہ کام جو ہم نے اختیار کیا اور اپنے ذمہ لیا ہے۔اور ذمہ کیا لیا ہے۔جس دن ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اسی دن سے ہمارے ذمہ ڈالا گیا ہے کہ بنی نوع انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہ ہے کہ یہ کام کرے اور اگر یہ کام نہ ہو تا تو خدا بندہ کو پیدا ہی نہ کرتا۔پس انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہ ہے کہ خود خدا تعالی سے تعلق پیدا کرے اور دوسروں کو تعلق پیدا کروائے۔اسی کا نام دین ہے یہی اسلام ہے۔اسی کو مذہب کہا جاتا ہے۔اس سے باہر نہ کوئی مذہب ہے۔نہ سلسلہ ہے۔نہ دین ہے پس ہماری اور نہ صرف ہماری بلکہ ہمارے باپ دادوں کی بھی پیدائش سے پہلے یہ کام ہمارے ذمہ رکھا گیا ہے۔اور یہ ایسا کام ہے۔کہ اس کو بدلنے کے ہم مجاز نہیں ہیں۔دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ جس کام کو جی نہ چاہے اسے چھوڑ کر دوسرا اختیار کر لیا جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی زراعت کرنا نہیں چاہتا تو زمین بیچ کر تجارت شروع کر دیتا ہے۔اگر کوئی تجارت کرنا نہیں چاہتا تو مال فروخت کر کے