خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 214

۲۱۴ سے پہلے ظاہر نہیں ہوئی تھی۔موسیٰ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہندوستان کے لئے ظاہر نہیں ہوئی۔بلکہ ہند کے لئے رام اور کرشن ذریعہ تھے۔عرب اور شام و ایران کے لئے بھی موسیٰ کے ذریعہ سے ظاہر نہیں ہوئی۔جس طرح خدا کا ایک سورج تمام دنیا کو روشنی پہنچاتا ہے حضرت موسیٰ کے وقت میں یہ بات نہ تھی بلکہ اس وقت چراغ کی حیثیت تھی۔کیونکہ اس وقت اتحاد کی رسی نے دنیا کو اکٹھا نہیں کیا تھا۔حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ظاہر ہوئی۔اور آپ کے وجود سے باقی تمام دروازے بند کئے گئے۔اور صرف محمدی دروازہ کھلا رکھا گیا۔گویا سورج نکل آیا۔تمام دئے بجھا دئے گئے۔وہی لیمپ جو رات کے وقت جلتا ہے جب سورج نکلتا ہے تو اس نے دوسری چیزوں کو تو کیا روشنی دینی تھی خود اس کا وجود بھی نظر نہیں آتا۔تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تمام دئے ماند ہو گئے۔کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہان کے لئے رب العالمین کے مظہر تھے۔یہ بات نئی نہیں لطیفہ کے طور پر نہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس پر بہت زور دیا ہے گو وضاحت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو۔مگر عموما " جاٹ سے جاٹ بھی اس کو جانتا ہے۔اور معرفت کے ساتھ یہ بات احمدیوں کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔احمدی ہی جانتے ہیں۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے ہیں۔لیکن یوں تو جانتے ہیں۔مگر بعض معالمہ کرنے میں بھول جاتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ یہ ہندوستانی ہے۔یہ بنگالی ہے۔یہ ہماری ہے۔یہ دکھتی ہے۔یہ عربی ہے۔یہ شامی ہے۔گویا قومیت کی یہ حس باقی ہے۔اگر خدا واقعہ میں رب العالمین ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آئے تھے۔تو پھر قوموں کی تقسیم بے سود ہے ہم بنگالی وغیرہ کہیں گے۔مگر یہ لفظ سوائے شناخت کے کچھ اثر نہیں کرے گا۔اس لفظ کی وجہ سے حقوق میں فرق نہیں آئے گا اگر ایشیائی ، یورپی، امریکی کا سوال ابھی تک باقی ہے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عبث ہے۔اور موسیٰ، عیسی، زرتشت کی حکومت باقی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی یہ امت نہیں یا امت تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے مگر باتیں موسیٰ اور عیسیٰ کے عہد کی کرتے ہیں۔منسوب عرب کے نبی کی طرف ہوتے ہیں جس نے دنیا کو ایک کیا اور باتیں وہ کرتے ہیں جو زرتشت کے وقت کی ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تو تفریق قومی کو مٹا دیا گیا ہے۔اور قومی تفریق کرنے والے اس پر قائم ہی۔اسلام کا منشاء یہ ہے کہ سب انسان ایک رشتہ میں منسلک ہو جائیں۔دل میں یہ خیال نہ آئے بنگالی اور ہیں افغانی اور افریقی اور ہیں اور امریکی اور ہندی اور ہیں۔پنجابی اور جب تک اس بات کو نہیں سمجھتے اس وقت تک گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو عبث ٹھراتے ہیں۔آپ کی بعثت کا تو یہ منشاء ہے کہ ان تقسیموں کو مٹا دیا جائے۔اور انسان کو سب