خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 15

تھے۔لیکن اب پھر اس کے خلاف ایک رو چلی ہے۔اور اب انگریزی پڑھنے کو قابل نفرت اور یونیورسٹیوں کو لعنت قرار دیا جا رہا ہے۔پس ہر ایک کام کے ساتھ یہ بات لگی ہوئی ہے۔کہ جو کوشش کرتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے۔جب تم نصیحت سے باز نہ آؤ گے تو آخر تمہاری فتح ہوگی۔اور اگر چھوڑ بیٹھو گے تو اپنی کمزوری ثابت کرو گے۔جو شخص اپنی کمزوری کو دوسروں کے سر تھوپتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔یعنی نصیحت کرتا ہے یا کوئی اور کام کرتا ہے۔مگر لوگ اس کی نصیحت کو نہیں مانتے یا اس کا ساتھ نہیں دیتے۔تو یہ اور ان کو برا کہتا ہے یہ اس کی غلطی ہے۔اصل میں یہ اس کی کمزوری ہے کہ اس نے نصیحت اور وہ اچھا کام چھوڑ دیا۔ایسی باتوں سے تو انتظام کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔اصل بات یہ ہے۔کہ کئی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ ہوتے ہیں۔جو ایک آدھ دن میں مانتے ہیں۔اور ایک وہ جو ایک آدھ مہینہ میں۔بعض دو مہینہ میں۔بعض شمال میں دو سال میں۔بعض دس ہیں، تمہیں سال میں۔بعض اس سے بھی زیادہ مدت میں مانتے نہیں پس جو کسی شخص کو نصیحت اس لئے چھوڑتا ہے۔کہ اس کی مانتا نہیں۔وہ غلطی کرتا ہے کیونکہ جس وقت اس شخص نے ماننا تھا۔اس وقت تک اس نے نصیحت نہیں کی۔جب اتنی نصیحت نہیں کی تو وہ کیسے مان لیتا۔حضرت خلیفہ اول ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔میں نے یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام سے بھی سنا ہے۔کہ حضرت نظام الدین اولیاء کے ایک شاگرد جو بعد میں ان کے خلیفہ بھی ہوئے۔اپنی زندگی میں وہ ایک جگہ شراب پی رہے تھے۔اتفاق سے حضرت نظام الدین بھی ادھر سے گذرے۔دیکھا تو فرمایا حسن ! یہ کیا؟ وہ مسکرائے اور ایک شعر پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے فق نے آپ کے زہر سے کمی نہ کی سہ یعنی یہ حالت فسق ابھی بڑھی ہوئی ہے۔آپ کے زہد کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ہمت کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جتنی ادھر سے سستی ہو اتنا ہی ادھر سے چستی اور ہمت ہو تب وہ مانتا ہے۔اگر کوئی ایک شخص کی سستی کی وجہ سے کام چھوڑتا ہے۔تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ہمت ہارتا ہے اور یہ سستی کرتا ہے۔میں نے ابھی جو پچھلے دنوں مشورہ کیا اس سے بھی معلوم ہوا۔اور جو باہر سے رپورٹیں آتی ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ چندہ میں بہت سے لوگ شامل نہیں ہوتے۔اگر پورا چندہ آئے تو ہمیں زائد چندے نہ کرنے پڑیں۔اور ہمارے مالی مشکلات دور ہو جائیں۔اگر ان لوگوں کے جو چندہ نہیں دیتے چندہ نہ دینے کے اسباب کو معلوم کیا جائے تو معلوم ہو گا۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ چند بار محصل کوشش کرتے ہیں۔جب کوئی شخص کچھ نہیں دیتا تو اس کو ست اور بے پروا یا کچھ اور کہہ