خطبات محمود (جلد 7) — Page 179
144 لیکن چونکہ وہ اپنے فوائد مسٹر گاندھی کے پیچھے چلنے میں نہیں سمجھتے۔اس لئے نہیں چلتے۔تو سیاسی خیالات ایک محدود طبقہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اور ان کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔مگر علمی باتوں کا اثر بہت وسیع ہوتا ہے۔وہ جرمنوں سے تعلق نہیں رکھتیں۔مگر وہ ان کے پیچھے چلتے ہیں۔ان کا تعلق فرانسیسیوں سے نہیں ہوتا۔مگروہ ان کی پیروی کرتے ہیں۔اسی طرح اور لوگ ان کو تسلیم کرتے اور ان سے متاثر ہوتے ہیں۔یہی لالہ لاجپت رائے جو آریہ سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہہ دیا تھا کہ یورپ کے عقل مند ویدوں کے رشیوں منیوں سے کم نہ تھے۔اتنی عداوت کے باوجود جو یورپ کے لوگوں کے متعلق یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں۔لالہ لاجپت رائے یہ کہنے پر مجبور ہی ہو گئے۔اور ان کی فضیلت کا اقرار انہیں کرنا ہی پڑا۔وجہ یہ کہ یہ علمی بات ہے جو وسیع سوال ہے۔اور ایسا سوال آدمیت سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ ملکوں سے۔اور سارے انسانی دماغوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔پس یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ یورپ کا خیال ہے۔یا جاپان کا خیال ہے۔یا امریکہ کا خیال ہے۔اس سے ہمیں کیا غرض۔میں نے صداقت کو قبول کر لیا ہے۔اور اتنا ہی میرے لئے کافی ہے۔کیونکہ وہ خیال اگر ایسے لوگوں میں پیدا ہوا ہے۔جن میں جوش ہے اور وہ۔عقلی بات ہے تو بہت سے لوگ اس کے اثر میں آجائیں گے اور انہیں دھوکہ لگ جائے گا۔اور آج جو نور ہم نے اپنے گھروں میں داخل کیا ہے۔بعد میں آنے والے ممکن نہیں بلکہ اغلب ہے کہ اسے اپنے گھروں سے نکال دیں۔کیونکہ جب کسی بدی کو مٹایا نہیں جاتا۔تو وہ پھیلتی ہے۔مثلاً بیماریاں ہی ہیں جب تک ان کا مقابلہ نہیں کیا جاتا پھیلتی جاتی ہیں یا جب تک خدا ہی ان کی تباہی کے اسباب نہ کرے بڑھتی جاتی ہیں۔یہ نیچر کا قانون ہے۔کہ ایک وقت تک ایک چیز اپنا جوش دکھا کر ٹھنڈی پڑنے لگ جاتی ہے۔طاعون کے متعلق ہی دیکھ لو۔انگریزوں نے تو بڑی بڑی کوششوں کے بعد یہی نکالا کہ جس کو طاعون ہو جائے وہ یہ علاج کرے۔یا اس کے لئے یہ احتیاط کی جائے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس کو ٹھنڈا کر دیا کہ اب پہلے کی طرح اس کے حملے نہ ہوں۔تو وسیع اثر کرنے والی باتیں اور چیزیں اس طرح بھی دب جاتی ہیں۔لیکن ایک اگر دب جائے تو دوسری نکل آتی ہے۔دوسری کے ٹھنڈے پڑنے پر تیسری۔اور جب تک صداقت کو نہ پھیلا دیا جائے یہ خطرہ لگا ہی رہتا ہے۔پس جب انسان یہ سمجھ لے کہ وہ دنیا میں اکیلا نہیں بلکہ اور لوگ بھی ہیں۔اور جب یہ سمجھ لے کہ اگر وہ آبادی سے الگ تھلگ کسی جنگل اور قلعہ میں بھی ہو تو بھی دوسروں کے خیالات کے اثر سے بچ نہیں سکتا۔اور اگر وہ متاثر نہ ہو تو اس کی اولاد یا اولاد کی اولاد متاثر ہو جائے گی۔پھر جب وہ یہ بھی سمجھے گا کہ جو صداقت اس نے قبول کی ہے راحت و آرام حاصل کرنے کا وہی ذریعہ