خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 166

رائے قائم کرتے ہو تو ان باتوں کو مد نظر رکھ لیا کرتے ہو؟ جب تم ان پر غور کرو گے۔تو معلوم ہوگا کہ بہت سے جھگڑے اور بہت سے فتنے صرف اس لئے پیدا ہوتے ہیں۔کہ اکثر حصہ اعمال میں دوسرے سے ایسی امید لگائی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ سے لگانی چاہیے اور اپنے متعلق ایسا فیصلہ کر لیتے ہیں جو خدا کے متعلق کرنا چاہئیے۔یا اپنی رائے کو ایسی وقعت دے لیتے ہیں۔جو نہیں دینی چاہئیے۔یا پھر دوسرے کو ایسا مکمل سمجھ لیتے ہیں۔کہ جو نہ صرف ایسا ہوتا ہی نہیں۔بلکہ ہو بھی نہیں سکتا۔اور پھر اس کی غلطی کو بد دیانتی قرار دے لیتے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ اس طرح درجہ تو وہ دیا جاتا ہے جو نبیوں کو بھی حاصل نہیں ہو تا۔مگر پھر فیصلہ وہ کیا جاتا ہے۔جو ابو جہل سے بھی بدتر ٹھہرانے والا ہوتا ہے۔ایک انجمن کے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ کو درجہ تو وہ دیا جاتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بھی نہ تھا۔کیونکہ آپ رائے میں غلطی کر سکتے تھے۔مگر اس کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ غلطی نہیں کرتا۔لیکن پھر فیصلہ یہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ اس کو غلطی لگ ہی نہیں سکتی اس لئے اگر یہ کوئی غلط رائے دیتا ہے تو چونکہ غلط بات اس کے دل میں آہی نہیں سکتی اس لئے بددیانتی کرتا ہے۔گویا درجہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑا دیا جاتا ہے۔اور فیصلہ ابو جہل سے بھی بد تر کیا جاتا ہے۔کیونکہ اس کی نیت پر بھی بلاوجہ شک کرنے کا کسی کو حق نہیں۔مگر اس کی نیت پر شک کر کے اسے ابو جہل، فرعون، شداد غرضیکہ بڑے سے بڑے برے انسان سے بھی بد تر قرار دے دیا جاتا ہے۔جو شخص اس طرح کرتا ہے اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے۔اور پھر خدا پر حملہ کرنے لگ جاتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود کے سامنے اس شخص نے کہا کہ خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔پس جب انسان یہ نہ سمجھ سکے کہ ظلم کس حالت کو کہتے ہیں۔اور بدنیتی اور شرارت کیا ہوتی ہے۔اور جلدی سے فیصلہ کر بیٹھے تو خدا تعالیٰ کے افعال پر بھی اعتراض کرنے لگ جائے گا۔اور اسے بھی ظالم قرار دے دے گا۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں کہ کام کرنے کی صمتیں کیا ہیں۔یعنی کن حکمتوں کے ماتحت کام کیا جاتا ہے پہلے تو میں نے یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی اپنی رائے اور عقل کے ماتحت کام کرے۔اس کے مد نظر کوئی قوانین نہ ہوں۔تو بھی ایسا فیصلہ کرنا کہ اس نے بددیانتی اور شرارت کی ہے جائز نہیں۔یہ بہت بڑا حملہ ہے۔اور اس کے لئے کافی ثبوت کی ضرورت ہے۔مثلاً گواہوں سے یا اور ذریعہ سے ثابت ہو جائے کہ فلاں نے رشوت لی ہے۔تو یہ ایک دعوئی ہو گا۔مگر پھر بھی یہ نہیں کہ اسے عام لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے۔بلکہ عدالت میں پیش کیا جائے۔اسی لئے ہم نے عدالتیں مقرر کر دی ہیں۔یا مثلاً ملزم خود اقرار کر لے کہ میں نے فلاں بے انصافی کی ہے۔یا گواہ پیش کئے جا سکیں۔یہ بھی ثبوت ہو گا اور اس کے متعلق حق ہوگا کہ خلیفہ کے سامنے یا اس کی مقررہ