خطبات محمود (جلد 7) — Page 11
اس لئے بہت دفعہ اس لئے بھی ارد گرد کے لوگ داخل ہو جاتے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ چلو اس جماعت میں شامل ہوں۔مگر ان میں پورا پورا اخلاص اور جوش پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ ان کا کچھ نقصان نہیں ہوتا۔ان کو احمدی ہونے پر تکلیفیں نہیں پہنچتیں۔باہر کے لوگ جو ہر طرف مخالفین میں گھرے ہوتے ہیں۔جب سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔تو سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں ہر قسم کی مصیبت اٹھانی پڑے گی۔اور پھر جوش اور اخلاص سے داخل ہوتے ہیں۔کیونکہ جب تک مصیبتیں نہ پڑیں۔اخلاص نہ پختہ ہوتا ہے نہ ظاہر ہوتا ہے۔پس یہاں بہت دفعہ بے سوچے لوگ بھی داخل سلسلہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے ضرورت ہے۔کہ انکی بھی تربیت کی جائے۔پس با قاعدہ جدوجہد ہونی چاہئیے۔تاکہ قادیان سے تو فارغ ہو جائیں۔ایک کمی یہ رہ جاتی ہے کہ یہاں غیر مذاہب کے لوگوں کو تبلیغ نہیں کی جاتی۔خصوصا ہندوؤں اور سکھوں میں۔باہر بھی تقریباً ایسا ہی ہوتا ہے۔مسیح موعود کی آمد غیر احمدیوں ہی کے لئے نہ تھی۔بلکہ عیسائیوں، یہودیوں، سکھوں ، ہندوؤں غرض سب کے لئے تھی۔اس لئے ان سب میں بلکہ ان قوموں میں تبلیغ ہونی چاہیے جو چوہڑے چمار ہیں۔اس کے لئے باقاعدہ اور پوری جدوجہد کی ضرورت ہے، یہ مقابلہ ہو گا تو جوش بھی پیدا ہو گا اور اصلاح بھی ہوگی۔پس سب سے پہلے یہاں کے لوگ نمونہ بنہیں۔اور اپنی کوشش سے کام لیں۔اللہ تعالٰی ہمیں اس صداقت کے سمجھنے اور دنیا تک پہنچانے اور عمل کرانے کی توفیق دے۔ہماری زبان اور کوشش میں برکت ڈالے۔اور جو لوگ ہمارے ذریعہ داخل ہوں ان کی کوشش میں بھی برکت پڑے۔اور وہ ہم میں کسی نقص پیدا کرنے کا موجب نہ ہوں۔آمین الفضل ۳ فروری ۱۹۲۱ء) محلوة كتاب الصلوة باب الاذن 000