خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 155

۱۵۵ کے لئے پیدا کیا ہے یا وہ سمجھتے ہیں خدا ہی نہیں۔دوسرا وہ گروہ ہے جو سمجھتا ہے کہ اس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے مگر انہیں اس کے حاصل کرنے کے ذرائع میں ہم سے اختلاف ہے۔وہ کہتے ہیں۔جو تم کہتے ہو وہ نہیں۔بلکہ اور ہیں۔انہوں نے غلط ذرائع سمجھ رکھے ہیں۔اور تیسرا گروہ وہ ہے۔جسے معلوم ہے۔کہ اس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اور اس غرض کو حاصل کرنے کے لئے جو صحیح ذرائع ہیں۔وہ بھی اسے معلوم ہیں۔اور وہ تم ہو جو اس گروہ سے تعلق رکھتے ہو۔ابتدائی شرائط کو تم نے پورا کر لیا۔اور انتہائی شرائط کے پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔تم نے اپنی پیدائش کی غرض کو سمجھ لیا ہے۔وصال الی اللہ کے صحیح ذرائع بھی سمجھ لئے ہیں۔اور اب تیسری شق باقی ہے۔کہ اگر انسان کوشش کرے۔تو قرب الی اللہ حاصل کر سکتا ہے۔گویا اب تم اس مقام پر پہنچ گئے ہو کہ ذرا پردہ ہے اور تم اپنے محبوب کا چہرہ دیکھ لو۔ایسے وقت میں اگر تم کسی اور بات میں مشغول ہو جاؤ۔تو کیسے افسوس کی بات ہوگی۔اور وہ جو تمہیں گھیر گھار کر ایسے موقع پر لانے والا ہے۔اس کو فکر ہوگی یا نہیں۔دیکھو ایک شخص جو اپنے محبوب سے بچھڑا ہوا ہو۔اسے ایک شخص کئی سال کی محنت و مشقت سے جب تلاش کر کے لائے۔اور محبوب کے دروازہ پر کھڑا کر دے۔لیکن وہ بجائے اندر جانے کے ایک بین بجائے والے کی طرف متوجہ ہو جائے۔جو پاس ہی سانپ نکال رہا ہو۔تو لانے والے کو کسی قدر صدمہ اور افسوس ہوگا۔اور اس شخص کی حالت بھی کیسی قابل افسوس ہوگی۔اس طرح اگر دس میں سال کی محنت کے بعد ایک کو قائم مقام بنا کر کہا جائے۔کہ لو اب تم کام کرو۔مگر وہ بجائے اس کام کو کرنے کے کسی اور شغل میں لگ جائے۔تو کام سپرد کرنے والے کو کس قدر صدمہ ہوگا۔وہ لوگ جنہوں نے سیدھا اور سچا رستہ پا لیا ہے۔وہ اگر اس کو دیکھ کر اور سمجھ کر اور باتوں میں لگ جائیں تو ان کی مثال ایسی ہی ہوگی۔جیسے ایک شخص نے بہت اعلیٰ درجہ کی عمارت بنائی ہو۔اور اپنی بیوی بچوں کو اس میں لے جانے والا ہو۔لیکن زلزلہ آئے اور ساری عمارت کو پاش پاش کر جائے۔تو میرے فکر کی یہ وجہ ہے۔اور میں اس ذمہ داری کو سمجھ کر آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں۔کہ اپنا قدم دنیا کی بجائے دین کی طرف بڑھاؤ۔یہ ممکن نہیں کہ تم دنیا کو بالکل چھوڑ دو۔اور سب کاموں سے علیحدہ ہو جاؤ۔مگر تمہیں دنیا کے بیچ رہ کر اس سے علیحدہ ہوتا ہے۔حافظ صاحب نے ایسے ہی لوگوں کے متعلق ایک شعر کہا ہے۔گو اسے اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔مگر یہ اولیاء اللہ کا طریق ہے کہ وہ اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہیں۔مگر مراد اس سے حافظ نہیں۔بلکہ اور لوگ ہیں۔کہتے ہیں درمیان قعر دریا تخته بندم کرده سة