خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 102

کیونکہ ان کی امید ہے اور یہ اقرار کے باوجود پھر پیچھے ہٹ رہے ہیں۔اور ایمان پر مضبوط نہیں اور ان کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں۔ابھی تو تمہاری وہ حالت بھی نہیں جو تم دعوی کرو کہ تم مومن ہو۔مگر خدا کے کہ تم مومن نہیں بلکہ مسلم ہو۔گویا ابھی خدا سے مسلم کا خطاب پانے کے لئے ایک اور زمانہ آنے کے امیدوار ہو۔پس ابتلا وہی ہے جس کو انسان محسوس کر سکے اور قدم لڑکھڑانے لگیں۔اور پھر ایمان پر ثابت قدمی ہو۔یہ نفس کا دھوکہ ہے کہ کہا جائے ہم نے فلاں فلاں ابتلا کو برداشت کیا اصل بات یہ ہے کہ جس کو برداشت کر لیا وہ ابتلا تمہارے لئے نہ تھا۔بلکہ اوروں کے لئے تھا۔اگر تم خدا سے ملنا چاہتے ہو تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم ان قواعد پر عمل کرو جن سے خدا ملتا ہے ورنہ تمہارے تمام دعاوی سراب کی طرح ہوں گے۔جن سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔اگر تم اصلاح کرو۔جیسا کہ یہ اصلاح کا زمانہ ہے۔تو عرفان کے ایسے ایسے دروازے کھلے ہیں۔جن میں داخل ہو کر انسان کی ہستی بالکل بدل جاتی ہے۔جو شخص ابتلاء میں اپنی جگہ سے ہل جاتا ہے۔اصل میں اس نے لطف ایمان دیکھا ہی نہیں۔ایمان تو کیا اس میں بشاشت ایمان بھی داخل نہیں ہوئی۔کیونکہ رسول اللہ فرماتے ہیں۔کہ جس کے دل میں بشاشت ایمان داخل ہو جائے۔پھر خواہ اس کو آگ میں ڈالا جائے۔تب بھی وہ ایمان سے منہ نہیں پھیر سکتا۔لیکن جس شخص کی آنکھیں قرآن ہوں۔دماغ قرآن ہو۔اور کان اور منہ قرآن ہو۔ہاتھ پیر اور جسم کے باقی اعضاء قرآن ہوں۔پھر اس پر ابتلاء آنے کے کیا معنی؟ تمہاری حالت بہت خطرناک ہے۔تم نجات کے دروزاے سے ابھی بہت دور ہو۔تمہارے اچھے لیکچرار جو بہت اچھا بیان کر سکتے ہیں اور خوب دلائل دے سکتے ہیں ان کی حالت بھی ایسی ہی ہے کہ وہ اس پیاسے کی مانند ہیں جس نے لق و دق بیان میں پانی کا چشمہ پا لیا اور اس پر پہنچ کر بجائے پانی پینے کے ناچنے لگ گیا۔تم اپنی تقریروں میں حقانیت اسلام کے دلائل دیتے ہو۔جس کے معنی ہیں کہ ہم نے چشمہ پا لیا۔لیکن اپنی تشنہ لبی تم نے نہیں بجھائی۔مسیح کی وفات کی دلیل دینا مسیح موعود کی صداقت کے دلائل بیان کرنا یہی بتاتا ہے کہ حق کیا ہے شیریں پانی کا چشمہ کہاں ہے۔مگر اس سے کیا جبکہ تم پیاسے کے پیاسے ہی رہے۔تمہارے دلائل سے یہ تو معلوم ہوا کہ تمہیں صحیح راستہ معلوم ہو گیا مگر جب تم اس پر چلتے نہیں تو کیا حاصل؟ شاید تم موازنہ کرنے لگو۔کہ غیر احمدیوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کی نسبت ہم اچھے ہیں۔مگر یہ غلطی ہوگی۔کیونکہ خوبی یہ نہیں کہ کہا جائے فلاں اندھا ہے۔ہم کانے ہیں۔یا فلاں کے دونوں ہاتھ نہیں۔ہمارا ایک ہاتھ ہے۔خوبصورتی یہ ہے۔کہ دونوں آنکھیں یا دونوں ہاتھ ہوں۔ضرورت یہ ہے کہ پاس ہونے کے لئے جتنے نمبروں کی ضرورت ہو۔اتنے لئے جائیں نہ یہ کہ کسی فیل ہونے