خطبات محمود (جلد 7) — Page 96
44 کے لئے سفر کرتا ہے اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ دوران سفر کے آرام کو کوئی نہیں پوچھے کو ئی میں پا گا بلکہ سفر کے نتیجہ کو پوچھے گا۔سفر مختلف اغراض کے ماتحت کئے جاتے ہیں۔کوئی صحت کے لئے کوئی تجارت کے لئے کوئی ملازمت یا تعلیم کے لئے کوئی تبلیغ کے لئے وغیرہ اگر ان اغراض میں سے کسی غرض کے لئے بھی سفر کیا گیا ہو اور وہ پوری نہ ہوئی ہو۔تو گھر میں گھسنا مصیبت ہو جاتا ہے۔خالی ہاتھ مسافر خود کہتا ہے کہ جب گھر جاؤں گا تو گھر والوں کو کیا منہ دکھاؤں گا۔یہ نکتہ پٹھان کوٹ کے سٹیشن پر معلوم ہوا۔وہاں ایک ہندو سٹیشن ماسٹر تھے۔میں وہاں حضرت خلیفہ اول کے وقت میں صحت ہی کی غرض سے گیا تھا۔اس سٹیشن ماسٹر کو شکار کا شوق تھا۔بندوق لیکر وہ بھی ہمارے ساتھ چل پڑا اس نے ایک فاختہ ماری۔میں نے کہا یونہی ضائع جائے گی۔اس نے کہا کہ نہیں اس میں کچھ حکمت ہے۔کئی دفعہ انسان شکار کے لئے نکلتا ہے اور کوئی چھوٹا یا بڑا شکار نہیں ملتا۔چونکہ بچے گھر میں منتظر ہوتے ہیں کہ ہم شکار لائیں گے اس لئے جب واپس جاتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں کیا کیا لائے تو کچھ بھی پاس نہ ہونے کی صورت میں ان کے دل کو صدمہ پہنچتا ہے۔اس لئے میرا قاعدہ ہے کہ پہلے کچھ نہ کچھ ضرور شکار کرلیتا ہوں تاکہ جب گھر جاؤں اور بچے پوچھیں تو ان کہ کہدوں کہ یہ لو یہ شکار ہے چونکہ اس کو محض اپنے بچوں ہی کی خوشی مد نظر تھی۔اس لئے یہ کہا مگر اس سے ہمیں ایک نکتہ معلوم ہو گیا کہ ہم جو دنیا میں ایک حالت سفر میں ہیں۔اگر ہم اپنے گھر میں خالی ہاتھ جائیں تو ان لوگوں کو جو ہمارے منتظر ہیں کیسی مایوسی ہوگی۔قرآن کریم میں آتا ہے الحقنا بهم فرياتهم (الطور : (۲۲) جو لوگ نیک کام کریں گے اس کی جزا ان کی اولاد کو بھی ملے گی۔جس طرح سفر سے واپس آنے پر بچے اور بڑے پوچھتے ہیں کیا لائے ہو ؟ وہاں یہی سوال ہو گا کہ ہم نے تو جو کچھ کرنا تھا کر چکے۔اب ہمیں امید تھی کہ ہمارا بیٹا بھائی، بہن، خاوند ہمارے لئے کچھ لائیں گے۔جس سے ہمارے روحانی مدارج میں ترقی ہوگی۔اس لئے صرف مومن ہی نہیں کہتا کہ اهدنا الصراط المستقيم (الفاتحه : ۶ کہ راستہ صاف اور سیدھا ملے اور امن سے ختم ہو۔کیونکہ گھر میں جانے پر یہی نہیں پوچھا جاتا کہ آپ کا سفر کیسا ختم ہوا بلکہ سوال ہوتا ہے کیا لائے۔اس لئے ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے صراط الذين انعمت عليهم (الفاتحہ : ۷) ان لوگوں کی راہ پر چلا جو کچھ کما کر لائے۔اور خالی ہاتھ اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچے۔پھر بہت لوگ کماتے بھی ہیں مگر یا تو راستہ گم کر دیتے ہیں یا نعمت کھو دیتے ہیں۔اس لئے سکھایا کہ غیر المغضوب عليهم ولا الضالين (الفاتحہ : (۷) کہ نہ تو ہم راستہ میں ہی بھٹک جائیں اور نہ ان انعامات کو ضائع کریں۔ا