خطبات محمود (جلد 7) — Page 47
مزدور چونکہ زیادہ مزدوری مانگتے تھے۔اس لئے مزدور ہم پہنچانے کا یہ طریق اختیار کیا گیا کہ زبر دستی افریقہ کے حبشیوں کو پکڑتے تھے۔اور ان سے بیلوں کی طرح جو کام چاہتے تھے لیتے تھے۔اور ان کا قصور محض یہ ہوتا تھا کہ کمزور ہوتے تھے۔اور پکڑنے والوں کا حق یہ تھا۔کہ وہ طاقتور تھے۔ان غلاموں پر بڑے بڑے مظالم ہوتے تھے۔آخر ایک عورت نے ایک ناول لکھا۔جس میں بتایا کہ کس طرح ان حبشیوں پر ظلم ہوتے ہیں۔کس طرح ماں باپ کو بچوں سے اور بچوں کو ماں باپ سے جدا کیا جاتا ہے۔اور کس طرح ان کو مارا اور زخمی کیا جاتا ہے۔چونکہ اس میں جذبات کو اپیل کی گئی تھی۔کئی لاکھ کاپی اس کی چند دنوں میں نکل گئی اور آخر اس کو قانونا " روکنا پڑا۔مگر چونکہ وہ اپنا اثر کر چکا تھا اس لئے ملک میں دو پارٹیاں ہو گئیں۔ایک وہ جو غلامی کے خلاف تھی۔اور ایک تائید میں۔دونوں میں جنگ شروع ہو گئی۔اور بڑے لمبے عرصے تک یہ جنگ رہی۔جس میں غلامی کے حامی ہار گئے۔اور مخالف جیت گئے۔اور اس طرح ان غریب حبشیوں کو امریکہ میں آزادی ملی۔ان میں ایک شخص افریقہ سے گیا۔جو اپنی قوم کی فلاح کی تدبیریں سوچتا ہے۔اس نے بتایا ہے کہ یہ سب لوگ عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہونے کو تیار ہیں۔یہ تو یقینی نہیں کہ سب مان لیں گے۔مگر یہ بعید از قیاس بھی نہیں۔یہ کروڑوں کا میدان ہے ممکن ہے کہ جلد ہی لاکھوں اسلام میں داخل ہوں۔اس کے لئے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ادھر روس چاہتا ہے کہ اس میں آدمی بھیجے جائیں۔تبھی وہ پیشگوئیاں پوری ہونگی جو وہاں کے متعلق حضرت مسیح موعود کی ہیں۔کیونکہ وعدے کی پیشگوئی میں ایک حصہ انسان کا ہوتا ہے اور ایک خدا کا۔انسان جب اپنا کام کرتا ہے تو باقی کا حصہ خدا خود پورا کر دیتا ہے۔زار کا عصا چھینا جا چکا ہے۔بخارا کے امیر کی کمان پڑی ہے۔اب ضرورت ہے۔کہ ہمارے آدمی جائیں۔اور اپنے شکار میں مصروف ہوں۔لیکن ہماری موجودہ حالت یہ ہے کہ تمہیں ہزار کے بل واجب الادا دفتر بیت المال میں پڑے ہیں۔اور چالیس ہزار پہلے لے کر خرچ کیا جا چکا ہے۔اور بعض لوگوں کو چار چار مہینوں کی تنخواہ نہیں ملی۔اور تنخواہ نہ ملنے سے کئی لوگوں پر فاقہ کی نوبت گذررہی ہے اور ان کی تنخواہ ماہوار اتنی ہے کہ جو باقاعدہ ملے تو ان کا گزارہ ہو سکتا ہے۔ایسی حالت میں ہم باہر کس طرح کام کر سکتے ہیں۔یہ ان تاریک وقتوں میں سے ایک ہے جن کے لئے حافظ نے کہا ہے۔شب تاریک و بیم موج و گرداب چنیں حائل چاروں طرف ظلمت ہے۔لیکن ادھر دنیا ہمیں بلا رہی ہے۔یہ ایک صدمہ ہے۔اور نہایت درد ناک حالت ہے اس وقت ہماری ایسی حالت ہے کہ بچہ مصیبت میں ہے ماں کو بلاتا ہے۔مگر ماں مجبور ہے کہ اس کی مدد نہیں کر سکتی۔اس حالت سے ایک خوشی بھی ہوتی ہے۔اور ایک صدمہ بھی