خطبات محمود (جلد 7) — Page 425
7 20 28 ہے لهم کے باعث لوگ آپس میں محبت کرتے ہیں مثلاً ہم عقائد ہونا یا اور بھی اتحاد پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔ان کی وجہ سے دو شخصوں میں اتحاد ہو جاتا ہے۔اس سے روکا نہیں گیا ہے۔لیکن یہ دھوکہ ہے کہ اس محبت کو حدیث کی مصداق محبت قرار دیا جائے۔کیونکہ خدا کی رضا کے لئے وہی محبت ہوگی۔جو خدا کی ساری مخلوق سے کی جائے گی۔یہ محبت ذاتی ہے۔جو ایک تاجر تاجر سے زراعت پیشہ زراعت پیشہ سے کرتا ہے۔قیامت کے دن وہ دوستی کام آئے گی جو سب بنی نوع انسان کی دوستی ہوگی۔جب تک یہ مرتبہ حاصل نہ ہو اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں آسکتا۔ممکن ہے کہ تم کسی کو سمجھو کہ وہ عیسائی ہے یا یہودوی یا ہندو ہے۔اس لئے اس سے نیک سلوک نہ کرو مگر یہ درست نہ ہو گا۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ بنی نوع سے محبت کرو۔یاد رکھو کہ عداوت میٹھی چیز نہیں۔محبت میٹھی چیز ہے۔تم دیکھو دونوں میں سے کونسی چیز آرام دہ ہے۔آیا محبت آرام دہ ہے یا غصہ۔تم غور کرو کہ تم جس وقت غصہ کی حالت میں ہوتے ہو اس وقت آرام کی حالت میں ہوتے ہو یا جس وقت محبت کے جذبات اور خیالات میں۔جب تم غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ امن خدا کی طرف سے آتا ہے غضب اس وقت جائز ہے۔جب خدا کے غضب کے مقابلہ میں آجائے۔ورنہ محبت ہی ضروری ہے۔جو لوگ حسن سلوک اور محبت کے جذبات چھوڑ دیتے ہیں ان کے لئے یہاں ہی جہنم ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے نفرت کے خیالات کو دور کر دے۔ہم بنی نوع انسان سے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کریں۔اور اس کے سایہ میں رہیں۔(الفضل »ار دسمبر ۱۹۲۲ء)