خطبات محمود (جلد 7) — Page 417
الم ڈال کر چھت تیار کر لیتا ہے۔دروازے کے لئے سامنے چار پائی کھڑی کرتا۔یا دو لکڑیاں کھڑی کر کے تختہ ڈال دیتا ہے۔جس طرح کہ مرغیوں کو بند کرنے کا دروازہ ہوتا ہے۔اس طرح مفت مکان بن جاتا ہے۔لیکن اگر ایک شخص پہلے انجینئر مقرر کر کے عمدہ پتھر کا مکان بنوانا چاہیے اور پھر خواہش یہ کرے کہ دیکھو فلاں شخص کا مکان مفت میں بن گیا میرا مکان بھی مفت بن جائے تو یہ نہیں ہو سکتا۔اگر خرچ نہیں کرنا تو کدال اٹھاؤ اور ڈھیلے نکالو۔اور ان کو جوڑ کر مکان بنا لو۔پس اسی طرح یا تو مفت تبلیغ ہو۔اور اس کے لئے یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ نکل پڑیں اور کچھ جرمن میں چلے جائیں کچھ روس میں اور پچاس ساٹھ امریکہ میں اسی طرح بڑی بڑی تعداد میں نکل کر مختلف ملکوں میں پھیل جاؤ۔اگر پچاس پچاس آدمی بھی جائیں اور روزانہ ایک ایک گھنٹہ فی کس کے حساب سے تبلیغ دین میں صرف کریں تو پچاس گھنٹے ہوں گے اور اگر ایک شخص جائے اور ایک گھنٹہ روز صرف کرے تو کہیں پانچ سو سال میں اس ملک کے لوگوں کو پتہ لگے گا کہ یہاں کوئی ان خیالات کا آدمی بھی ہے۔پس یا تو پہلوں کا طریق اختیار کرنا چاہئیے کوئی چندہ نہیں لیا جائے گا بلکہ سارا جان و مال لیا جائے گا۔اور اس طرح لوگوں کو اپنے وطن چھوڑ کر غیر ممالک میں جانا اور تبلیغ کرنی ہوگی۔لیکن چاہا تو یہ جاتا ہے کہ کام پہلوں کا سا ہو۔مگر اس کو اختیار نہیں کیا جاتا اور دوسرا طریق روپیہ خرچ کرنے کا ہے۔لیکن اس کے لئے چاہتے ہیں روپیہ نہ لگے کہ جماعت مقروض ہے۔اور ادہر امریکہ مشن کی تعمیر ہو رہی ہے۔اور جرمن مشن کھولنے کا ارادہ ہے اور اس وقت جرمن میں مشن کھولنے کا ہی سوال در پیش ہے۔اس صورت میں تبلیغ بند کر دی جائے اور جس طرح غیر احمدی بیٹھے ہیں ہم بھی اسی طرح خاموش اور دین کی تبلیغ سے بے پرواہ ہو کر بیٹھ جائیں۔اور اگر کام کرنا ہے تو اس کے دو طریق ہیں یا تو ساری جماعت کرے اور جتنے آدمیوں کی مانگ ہے اتنے ہی نکل آئیں۔یا چندہ دیا جائے اور کچھ لوگوں کو باقاعدہ ان ممالک میں بھیجا جائے۔سکتا پہلا طریق ہو تو کم از کم سو سو آدمی تو کسی ایک ملک میں چلا جائے۔امریکہ میں ہمارا اس وقت ایک آدمی ہے اور وہ ۲۴ گھنٹے کام کرتا ہے۔اگر سو آدمی امریکہ میں جائے تو چہار مبلغوں کا کام ہو ہے۔اس طرح کام زیادہ ہو گا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ مفتی صاحب وہاں اکیلے رہیں۔وہ ملازمت بھی کریں۔اور اپنا سارا وقت بھی صرف کریں۔اور یہ نہیں ہو سکتا کہ مسٹر مبارک علی صاحب ملازمت بھی کریں اور اپنا سارا وقت تبلیغ میں بھی صرف کر سکیں جس طرح ایک قطرہ منہ میں پڑنے سے پیاس نہیں بجھ سکتی یا ایک لقمہ کھا کر سیری نہیں ہوتی اسی طرح اگر ایک آدمی اکیلا جائے تو اس سے کام کہاں اتنا ہو سکتا ہے جتنا ہونا چاہیے۔پس یا تو درجنوں جائیں اور اپنا کام کریں