خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 416

77 نشر و اشاعت کی دو راہیں (فرموده ۲۴ / نومبر ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔چونکہ آج مجھے آنے میں دیر ہو گئی ہے۔میں مختصراً ایک ایسے امر کے متعلق جس پر ہماری جماعت کی ترقی کا آئندہ انحصار اور دارومدار ہے۔اپنے دوستوں کو جو یہاں ہیں اس وقت اور جو باہر ہیں اخبار کے ذریعہ توجہ دلاتا ہوں۔ہماری جماعت کے ذمہ ایک کام لگایا گیا ہے وہ اشاعت اسلام ہے۔یہ ہمارے ذمہ ہی نہیں بلکہ یہ اسلام کے اعلیٰ مقاصد اور اغراض میں داخل ہے۔جیسا کہ فرمایا كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر تم سب سے بہترامت ہو اور تمہارے پیدا کرنے کی غرض یہ ہے کہ لوگوں کو فائدہ پہنچاؤ۔تو امت اسلامیہ کے قائم کرنے کی غرض یہ ہے کہ نوع انسان کو ایک مرکز پر جمع کیا جائے۔لوگ سوسائٹیاں بناتے ہیں۔اس لئے کہ دنیا کو ایک جگہ پر جمع کریں۔لیکن اس سے ناواقف ہیں جس نے کہا تھا کہ میں دنیا میں آیا ہی اس غرض سے ہوں کہ دنیا کو ایک بنادوں اور اس غرض کے لئے اس نے ایک جماعت بھی بنادی۔اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔غرض یہ کام اسلام کے اصول میں داخل اور ہمارے فرائض میں داخل ہے۔اس کام کو مختلف رنگوں میں ہمیں چلانا چاہئیے۔اس کے لئے اخراجات بھی زیادہ ہوتے۔اور مختلف مقامات پر مشن قائم کرنے پڑتے ہیں۔ایک طریق تو یہ ہے کہ جیسا کہ ایک بزرگ کو کچھ لوگ ملنے گئے۔انہوں نے کہا کہ فلاں مقام پر اسلام کا بہت کم چر چا ہے۔تم سب کے سب وہاں چلے جاؤ اور تبلیغ اسلام کرو۔وہ لوگ چپ کر کے وہاں چلے گئے۔یا تو یہ رنگ ہو پھر خرچ نہیں ہو گا لیکن اگر یہ رنگ نہیں تو چندہ پر ہی کام ہو گا۔اور اخراجات بھی ہوں گے۔پہلے طریق کی مثال تو یہ ہے کہ ایک شخص کدال اٹھاتا ہے اور سخت زمین پر جا کر چلاتا۔اور مٹی کے ڈھیلے اکھاڑتا اور ان کو جوڑ کر دیواریں بناتا اور باپ دادا کے وقت کے کسی درخت کو کاٹ کر شہتیر اور لکڑیاں بناتا اور اوپر پتے ڈالتا اور کچھ مٹی اوپر