خطبات محمود (جلد 7) — Page 414
لم با هم مباحثات کے باعث کوئی شور و شر نہیں پڑتا۔اگر شورش ہی تبلیغ میں مڈ نظر ہو تو سمجھو کہ ہماری محنت اکارت گئی۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کا باعث ان کی زبان اور خیالات سے ناواقفیت ہے۔اور آریوں سے بحث وغیرہ میں آسانی ہے کہ ان کی کتابیں اردو میں مل جاتی ہیں۔ورنہ ہماری جماعت کے لوگوں کو واہ واہ کی الا ماشاء اللہ پر واہ نہیں۔پس غیر آریہ سماجی ہندوؤں کی طرف توجہ نہ کرنے کا باعث واہ وا کا نہ ہونا نہیں بلکہ ان کے علوم سے ناواقفیت ہے مگر ان لوگوں میں ہماری جماعت کے انگریزی خواں خوب تبلیغ کر سکتے ہیں۔کیونکہ ان کا لٹریچر جس قدر انگریزی میں ہے اتنا مروجہ بھاشا میں بھی نہیں ہے۔انگریزی میں ہندوؤں کے لٹریچر کا اکثر ضروری حصہ آگیا ہے۔چنانچہ انگریزی میں وید اور پرانوں کے ترجمے تو میرے پاس بھی موجود ہیں علاوہ ازیں سناتن دھرمیوں بدھوں اور جینیوں کی کتابیں بھی انگریزی میں ہیں۔ان کے ذریعہ ہمارے انگریزی خوانوں کو پتہ لگ سکتا ہے۔اور یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کونسی باتیں ہیں جن کا ان پر اثر ہوتا ہے اور کونسی باتیں ہیں جن سے وہ نفرت کرتے ہیں۔جن باتوں کو وہ پسند کرتے ہیں اگر وہ صحیح ہیں تو ان کو دکھانا چاہئیے کہ اسلام میں ان سے اعلیٰ طریق پر موجود ہیں۔اور جو غلط ہوں ان کے مقابلہ میں صحیح پیش کرنی چاہئیں۔پس انگریزی زبان کے ذریعہ ان کے لٹریچر کو پڑھ کر ان میں تبلیغ کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے اور اس طرح ہمیں ہندوؤں کے وسیع دائرے کی طرف توجہ کرنی چاہئیے۔آریہ ہیں بھی محدود اور ان کی اغراض بھی بحث مباحثہ سے یہ ہیں کہ ہندوؤں میں ظاہر کریں کہ وہ ہندو مذہب کی طرف سے لڑ رہے ہیں اس سے ماسوا اور کوئی غرض نہیں۔دیکھو عیسائی ۴۰ لاکھ ہندوستانیوں کو عیسائی بنا چکے ہیں یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ ابھی ہماری جماعت کی تعداد بھی چالیس لاکھ نہیں ہے۔مگر یہ لوگ جو اتنی بڑی تعداد میں عیسائی ہوئے ہیں۔ان ہندوؤں میں سے ہیں جو مذہب کو اکھاڑا نہیں بناتے تھے۔عیسائی مذہب کی سادگی ان کی سمجھ میں آگئی۔اگر اسلام ان کے سامنے پیش ہو تو وہ اس کو قبول کر سکتے ہیں۔ان چالیس لاکھ میں ۳۴ یا ۳۵ لاکھ وہ ہندو ہیں جو ادنی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر ہمارے آدمی بھی ان کے مذہب کی واقفیت پیدا کریں۔تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ عیسائیت کے مقابلہ میں ہمیں کامیابی نہ ہو۔وہ مشرک لوگ ہیں انہوں نے لاکھوں کروڑوں دیوتاؤں کو مان رکھا ہے۔ان کے سامنے جب تین اقنوم پیش کئے گئے تو ان لاکھوں کے مقابلہ میں انہوں ان تین کو ترجیح دی۔مگر جب ان کے سامنے توحید پیش کی جائے گی۔اور بچے واحد خدا کو پیش کیا جائے گا تو وہ یقیناً اس کو قبول کریں گے۔جب تین خدا ان کو مسخر کر سکتے ہیں تو حقیقی خدا یقیناً ان کو مسخر کرے