خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 393

۳۹۳ باشید "F ہونگی۔اگر روپیہ نہ ہو تو کام کرنے والا اتنا کام کرے گا جتنے کی اس کو ضرورت ہوگی۔اب لوگوں میں روپیہ کا چلن زیادہ ہے۔اس لئے عیاش جتنا چاہیں خرچ کر سکتے ہیں۔پس چونکہ معیشت کا طریق بدلا ہوا ہے۔اس لئے ضروری ہوا کہ مقررہ رقمیں دی جائیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جن لوگوں نے دین کی خدمت کے لئے زندگی وقف کی ہوتی ہے۔انہیں بھی ضروریات ہوتی ہیں۔اور اس قسم کی ضروریات سے جب نبی بھی باہر نہیں ہوتے تو یہ کیسے باہر ہو سکتے ہیں۔مگر یہ رقوم جو ان کو دی جاتی ہیں ان کو اللہ تعالی کی طرف سے تحفہ کے طور پر ملتی ہیں۔صحابہ کرام کو بھی انعام ملے۔ان کو ملک دولت ملی۔جنگ میں جو کچھ ہاتھ آتا تھا وہ انہی کا ہوتا تھا۔اور بعض دفعہ جنگوں میں جو کچھ ملتا تھا وہ ان کی ضروریات سے سینکڑوں گنے زیادہ ہوتا تھا۔ہاں بعض اوقات کچھ بھی نہ ملتا تھا۔لیکن ان کے کام ملازمت کے کام نہ تھے۔اگر ان کو کچھ بھی نہ ملتا تو وہ شکایت نہ کرتے تھے کہ ہمیں کیوں نہیں ملا۔یہی حال جب تک ہمارے کارکنوں کا نہ ہو اس وقت تک ہمارے کام میں برکت نہیں ہو سکتی۔نہ ان کے کام میں برکت ہوگی نہ سلسلہ کو ترقی اور اس کے کاموں میں برکت ہوگی۔بلکہ الٹا سلسلہ کو نقصان ہو گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت کی مالی حالت کمزور ہے۔لیکن جس قدر لوگ چندہ دیتے ہیں وہ اپنی پوری طاقت سے دیتے ہیں۔ہاں کچھ ایسے بھی ہیں جو چندہ میں ست ہیں۔لیکن جس قدر دینے والے ہیں وہ چندے میں کمی نہیں کرتے۔اس لئے ان پر اور زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔اگر ہم کام کے معاوضہ میں روپیہ دینا بھی چاہیں تو نہیں دے سکتے۔نہ ہمارے پاس اس قدر روپیہ ہے نہ اس قسم کا کام بابرکت ہو سکتا ہے۔کیونکہ دین کی خدمت کا اگر روپیہ پر ہی انحصار ہو تو پھر احمدی مبلغوں ہی کی کیا شرط ہے ایسے لوگ ہندوؤں اور عیسائیوں میں سے بھی نکل سکتے ہیں جو روپیہ لیکر وہی دلائل بیان کر سکتے ہیں جو ایک احمدی بیان کرتا ہے۔اس وقت عیسائی مشنری جو دنیا میں کام کر رہے ہیں ان کی تعداد ساٹھ ہزار ہے۔مگر ان میں بیسیوں ایسے ہیں جو موجودہ عیسائیت کے قائل نہیں ہیں۔باوجود اس کے بحث اسی جوش سے کرتے ہیں۔جس طرح ایک ماننے والا کیا کرتا ہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ ان کو روپیہ ملتا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے ایک عیسائی کی بحث ہوئی۔اس نے تثلیث سے انکار کر دیا آپ نے اس کو کہا کہ تم تو روز عیسائیت کی تائید میں تقریر کرتے ہو۔پھر یہ انکار کیا۔اس نے جواب دیا کہ وہ میں نہیں بولتا بلکہ میری تنخواہ بولا کرتی ہے۔پھر اس نے کہا کہ ہمارے ہاں لوگوں کو عیسائیت سے دلچسپی پیدا کرنے کے لئے تین طریق پر وعظ ہوتے ہیں۔ایک عام اخلاقی وعظ دوسرے توحید کے متعلق، تیسرے تثلیث وغیرہ کے متعلق۔میں نے یہ التزام کیا ہوا ہے کہ یا تو اخلاقی وعظ کہتا ہوں یا