خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 33

۳۳ عیسائیوں سے اور عیسائی مسلمانوں سے اور ہندو مسلمانوں سے مل جاتے ہیں۔اور کوئی قوم نہیں جو ہمارے مقابلہ میں دوسری قوموں کے ساتھ متفق نہ ہو۔گویا دنیا کا کوئی ایسا دروازہ کھلا نہیں جس کی طرف دیانت اور ایمانداری کو قائم رکھ کر ہم جا سکتے ہوں۔ہم ہندوؤں کی طرف نہیں جا سکتے جب تک ہم اپنی محبوب ترین چیز ایمان کو قربان نہ کریں۔اسی طرح ہم غیر احمدیوں، سکھوں ، یہودیوں عیسائیوں غرضیکہ کسی قوم سے دیانت داری کے ساتھ صلح نہیں کر سکتے۔دنیا اس وقت منافقت چاہتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر سارا نہیں تو ایمان کا کچھ نہ کچھ حصہ میرے ہاتھ فروخت کرو تب صلح ہو سکتی ہے۔مگر ہم نے چونکہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد کیا ہوا ہے اس لئے ایسا نہیں کر سکتے۔پس ہماری جماعت اگر اپنے اس عہد پر پکی ہے۔اگر اس نے یہ عہد کچے دل سے کیا ہے۔اور اگر وہ اس کو پورا کرنا چاہتی ہے۔تو پھر تم دنیا سے صلح نہیں کر سکتے کیونکہ دنیا تمہارا یہ عہد توڑنا چاہتی ہے۔تم یہی کہہ سکتے ہو کہ جاؤ ہماری جان، مال، بیوی، بچے اور جائداد سب کچھ لو۔ہمیں ان سب سے پیارا ایمان ہے۔وہ ہم تمہیں نہیں دے سکتے۔اور نہ کسی کی طاقت ہے۔کہ یہ ہم سے چھین سکے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کا چھیننا کسی کے قبضہ اور اختیار میں رکھا ہی نہیں۔ظالم جان لے سکتا ہے۔مال چھین سکتا ہے۔وطن سے بے وطن کر سکتا ہے۔جائداد تباہ کر سکتا ہے۔مگر ایمان نہیں چھین سکتا۔چونکہ یہ سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کی ذمہ داری خود لی ہے۔اس کو انسان خود ہی نکال دے تو نکال دے۔مگر کوئی اس سے ہرگز نہیں چھین سکتا۔تم اگر اس عہد پر قائم ہو۔تو پھر کسی قوم کے ساتھ دیانت داری سے صلح نہیں کر سکتے۔ہندو مسلمانوں سے اس لئے صلح کر سکتے ہیں۔کہ وہ جانتے ہیں۔یہ مردہ ہے ہم سے کچھ چھین کر نہیں لے جا سکتے۔اسی طرح سکھ ہندوؤں سے مل سکتے ہیں۔مگر احمدیوں سے ملنے کے لئے کوئی قوم تیار نہیں۔وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں۔اگر ہم ان سے ملے تو ان میں جذب ہو جائیں گے۔اس لئے وہ ہم سے دور دور بھاگتے ہیں۔اس طرح ہمارے لئے چاروں طرف سے دروازے بند ہو گئے ہیں۔اور صرف ایک ہی دروازہ کھلا ہے۔جو خدا تعالی کا دروازہ ہے۔پس جہاں یہ زمانہ ہمارے لئے مشکلات کا زمانہ ہے۔وہاں خدا کی رحمتوں کا بھی ہے کیونکہ ساری دنیا ہمیں گھیر گھیر کر خدا تعالیٰ کی طرف لے جا رہی ہے۔اور سارے دروازے بند ہو کر ہم ایک ہی دروازہ کی طرف کھینچے جارہے ہیں۔اس سے زیادہ نعمت ہمیں اور کیا چاہیے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا اور مال و دولت مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔تو انصار میں سے کسی نوجوان کو خیال پیدا ہوا۔کہ فتح تو ہم نے کی ہے۔اور خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔لیکن مال رسول کریم نے اپنے رشتہ داروں کو دیا ہے۔اور اس کا اس نے اظہار بھی