خطبات محمود (جلد 7) — Page 32
۳۲ مسلمان چاروں طرف سے مایوس ہو جاتے تاکہ خدا تعالی کی طرف جھکتے۔مگر وہ سمجھے کہ اس میں اسلام کی تباہی ہے۔اس وقت انہوں نے کہا کہ چاہے ہم پس جائیں اور ہندو ہمیں پیس ڈالیں مگر ہم ان کو پیس کر چھوڑیں گے جنہوں نے ترکوں کو تباہ کیا ہے۔ان حالات کے ماتحت وہ تمام پرانی دشمنی اور عداوت بھول گئے اور ہندوؤں کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھایا اور کہا۔ہندو ہمارے بھائی ہیں۔جدھر وہ ادھر ہم۔تو ایک تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو ارادہ اور نیت کے ماتحت پیدا کئے جاتے ہیں۔مثلاً ایک شخص شہر میں رہتا ہے۔اس کو اختیار ہے کہ زید سے تعلق پیدا کرے یا بکر سے۔لیکن بعض حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں کسی خاص شخص کو دوست بنانے کے لئے انسان مجبور ہو جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ حالات نے ہندوؤں کو مسلمانوں سے اور مسلمانوں کو ہندوؤں سے مجبور کر کے ملا دیا۔اگر یہ حالات نہ پیدا ہوتے تو ممکن تھا کہ ان میں سے کوئی فرانس سے یا جاپان سے اور کوئی امریکہ یا انگلینڈ سے تعلق قائم کر لیتا لیکن حالات نے انہیں مجبور کر دیا کہ آپس میں تعلق پیدا کریں۔- تو دو قسم کے کام دنیا میں ہو رہے ہیں۔ایک وہ جو انسان مجبوری سے کرتا ہے۔اور دوسرے وہ جو اپنی مرضی اور ارادہ سے کرتا ہے۔یہی حال دین کے معاملہ میں ہے۔ہر انسان کا کام ہے کہ خدا تعالٰی سے محبت کرے۔خدا تعالیٰ تعلق پیدا کرے خدا تعالیٰ سے انس پیدا کرے۔لیکن ہر انسان اس کے لئے آزاد ہے۔وہ ایسا کر سکتا ہے کہ خدا کو چھوڑ کر شیطان سے تعلق پیدا کرے۔خدا کو چھوڑ کر حکومت سے تعلق پیدا کرلے۔خدا کو چھوڑ کر دولت سے پیار کرلے۔مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو مجبور کر کے خدا کی طرف لایا جاتا ہے۔یہ ایسے لوگوں کے متعلق ہوتا ہے جو اپنے اندر صلاحیت اور قبولیت کا مادہ رکھتے ہیں۔جن کے نفس میں ایسی نیکی اور خیر ہوتی ہے کہ خدا تعالی کی محبت نہیں چاہتی کہ وہ ضائع ہوں ان کو خدا تعالیٰ کھینچ کر اپنی طرف لے آتا ہے۔اس قسم کی جماعتیں بہت گذری ہیں اور اس زمانہ میں ایسی جماعت تم لوگ ہو۔بیشک خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا انسان کی مرضی پر منحصر ہے۔مگر ہماری جماعت اگر غور کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ اس وقت اسے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے اور اس تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔خدا تعالیٰ کے تعلق کے سوا باقی تمام تعلقات کاٹے جا رہے ہیں۔ہر قوم جو دنیا میں بہتی ہے۔ہماری جماعت کو حقارت سے دیکھتی ہے۔اور نہ صرف حقارت سے دیکھتی ہے۔بلکہ ہمیں مٹانا چاہتی ہے۔ہمارے مقابلہ میں عیسائی ہندؤوں سے ہندو عیسائیوں سے مسلمان