خطبات محمود (جلد 7) — Page 349
۳۴۹ کے مستحق ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ دنیا کے تارک اور راہب ہو جاتے ہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ اسلام بتاتا ہے کہ دنیا میں ہو کر دنیا سے الگ رہو۔اسلام یہ تعلیم نہیں دیتا کہ کوئی شخص اپنی تجارت کو تباہ کر دے۔اپنی زمینداری کو برباد کر دے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لا رهبانية في الاسلام اے کہ انسان اپنے کاروبار کو چھوڑ کر ایک گوشہ میں چلا جائے۔اسلامی طریق یہ ہے کہ دنیا میں رہ کر دنیا سے الگ رہو۔صحابہ میں اس کی نظیریں ملتی ہیں۔حضرت عبدالرحمن بن عوف جو بہت بڑے صحابی تھے اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔جن کو اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت مل گئی تھی۔وہ تجارت کیا کرتے تھے۔جب فوت ہوئے تو کئی کروڑ روپیہ ان کے گھر سے نکلا۔ان کی آمد کا یہ حال تھا کہ ایک ہزار روزانہ صدقہ کرتے تھے۔مگر ان کا ذاتی ایک مہینہ کا بھی ایک ہزار خرچ نہ تھا۔۲؎ اسلام یہ نہیں کہتا کہ دنیا نہ کماؤ۔بلکہ اس سے روکتا ہے کہ اس کو معبود بناؤ۔ایک لطیفہ ہے تاریخوں والے لکھتے ہیں اور میں اس کو لطیفہ ہی کہوں گا کہ حضرت امام حسن نے حضرت علی سے پوچھا کہ کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔پھر کہا کہ خدا سے محبت ہے آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت حسن نے کہا تو آپ مشرک ہوئے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں جہاں تمہاری محبت خدا کی محبت کے مقابلہ میں آئے گی تو تمہارا قتل بھی مجھ پر اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کچھ مشکل نہیں ہو گا۔۳۔گو اس کو واقعہ بتایا ہے مگر حضرت امام حسن حضرت علی کا علم میں مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔مگر خواہ کچھ ہو اس واقعہ میں صداقت ہے۔کہ نیکی یہ ہے کہ دنیا میں ہو کر دین ہو۔صحابہ کے متعلق کہیں نہیں ملتا کہ انہوں نے کام چھوڑ دیا ہو۔حضرت ابو بکر حضرت عثمان تجارت کیا کرتے تھے۔مکہ میں زمینداری نہ تھی۔جب ہجرت کر کے آئے تو تجارت ہی کیا کرتے تھے۔حضرت علی مختلف کام کر لیا کرتے تھے۔زمینداری بھی اور کبھی گھاس کاٹ لاتے اور بیچ دیا کرتے تھے۔۴۔یہ نہیں کہ دنیا کو چھوڑ دیں باوجود اس کے جب خدا کی آواز آئی۔تو انہوں نے اپنے کام کی پروا نہیں کی اور خدا کی آواز پر دوڑ پڑے۔خدا کی آواز پر قربانی تو کرنی ہی تھی۔خدا کے رسول کی آواز پر بھی اسی طرح قربانی کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خطبہ فرما رہے تھے۔اور کسی شخص کو آپ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔مسجد کے باہر حضرت عبداللہ بن مسعود آرہے تھے وہ وہیں بیٹھ گئے۔اور بیٹھے بیٹھے مسجد میں آئے۔۵۔وہ لوگ اللہ کی آواز پر کان دھرتے تھے۔اور رسول کی آواز پر بھی توجہ کرتے تھے۔آج کل کے لوگ خواہ عبداللہ بن مسعود کو پاگل کہیں۔لیکن ان کو اس بات کی پروا