خطبات محمود (جلد 7) — Page 350
۳۵۰ نہ تھی۔کہ لوگ ان کو کیا سمجھتے ہیں۔ان کو اس میں مزا آتا تھا کہ جو آنحضرت فرمائیں وہ اس کو مان لیں۔جب تک کوئی شخص اللہ کی آواز پر دیوانہ نہ ہو جائے اس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا۔اسلام کہتا ہے مال کماؤ خوب کماؤ۔تجارت کرو ، خوب کرو۔لیکن یہ نہ ہو کہ ان کاموں میں پڑ کر خدا کو بھلا دو۔بے شک مال بڑھائیں مگر خدا کی آواز پر کان دھریں۔زمین بڑھائیں اور بہت بڑھائیں لیکن جب خدا کی طرف سے آواز آئے تو پھر اس کی پروا نہ کریں۔اس وقت یہ خیال دل میں نہ آئے کہ اگر روپیہ بچ گیا تو مربع خریدیں گے۔اگر اس وقت روپیہ کو اور زمین کو خدا پر مقدم کیا گیا تو وہ خدا کا شریک ہوگا۔اگر خدا کی آواز پر تجارت یا زراعت کو مقدم کیا گیا تو وہ بت ہو گا۔اگر کوئی شخص جان خرچ کرنے سے ڈرے تو اس کی جان بہت ہوگی۔یاد رکھو کہ ہر ایک چیز جس کو انسان خدا کے لئے قربان نہیں کر سکتا۔اس کو وہ خدا کا شریک بناتا ہے۔جو شخص ہر ایک پیاری سے پیاری چیز کو خدا کے نام اور اس کے رسول اور خدا کے دین کی اشاعت میں لگانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔وہ موحد نہیں ہو سکتا۔وہ مشرک ہے اور اس شرک کو اپنے اپنے دل سے نکالنا چاہیے۔کیونکہ قربانی کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔لیکن میں کہتا ہوں کہ ترقی کو جانے دو کہ یہ بھی ایک دنیاوی چیز ہے۔بلکہ میں کہتا ہوں خدا نہیں مل سکتا جب تک قربانی نہ کی جائے۔آج جان کی قربانی کا موقع نہیں لیکن پچھلے دنوں ایک ایک مہینہ کی آمد کا دین کے لئے مطالبہ کیا گیا تھا۔مگر اس میں زمیندار فیل ہو گئے۔دوسرے لوگوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کر کے یعنی ملازموں اور تجارت پیشہ لوگوں نے اپنی ایک ایک ماہ کی آمد دی۔مگر زمینداروں نے بالعموم اس میں کم حصہ لیا۔اور عذر یہ کیا کہ اس دفعہ غلہ ستا ہو گیا۔مگر وہ یاد رکھیں کہ جو نرخ غلہ کا پچھلے دنوں میں بوجہ قحط سالی کے رہا ہے وہ اب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ قاعدہ نہیں کہ ہمیشہ قحط رہے۔یہ ایک عارضی بات تھی۔لیکن افسوس ہے کہ لوگ اس کی وجہ سے ثواب سے محروم رہے۔یہاں کے زمینداروں کے متعلق مجھ کو معلوم نہیں باہر کے زمینداروں کا حال مجھ معلوم ہے۔اس لئے میں ان کو متوجہ کرتا ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اور لوگوں نے اپنا فرض مکمل طور پر ادا کر دیا ان میں بھی ہیں جنہوں نے توجہ نہیں کی۔علاوہ ازیں کئی لوگ ہیں جو نماز با قاعدہ نہیں پڑھتے اور کئی کے اخلاق حسنہ میں کمی ہے کتنے ہیں جو تبلیغ میں ست ہیں اللہ تعالیٰ جماعت کو سمجھنے کی توفیق دے۔اور ہر ایک شرک کی بات سے بچائے۔کیونکہ ہر ایک چیز جو خدا کی راہ میں مقدم کی جاتی ہے خواہ وہ کتنی ہی حقیر ہو۔خدا کی شریک بنائی جاتی ہے۔اللہ تعالٰی اس کو سمجھنے اور شرک سے بچنے اور نیکی اور تقویٰ کی راہوں پر چلنے کی توفیق دے۔الفضل ۴ ستمبر ۱۹۲۲ء)