خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 322

۲۲۲ 59 قرآن کریم کے تمدنی احکام (فرموده ۱۴ جولائی ۱۹۲۲) حضور انور نے تشہد و تعوذ۔سورۃ فاتحہ اور سورۃ الحجرات کی ابتدائی پانچ آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج میں ایک تونی معاملہ کے متعلق توجہ دلاتا ہوں۔چونکہ میرے گلے میں تکلیف ہے۔اس لئے زیادہ نہیں بول سکتا۔اور مختصراً یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ جب کوئی قوم ترقی کرنا چاہتی ہے اور خدا تعالی اس کو بڑھانا چاہتا ہے تو اس قوم کا تمدن بھی ترقی کرتا ہے غور کرو چوڑ ہوں چماروں کے مقابلہ میں پڑھے لکھے لوگوں کی عقل تو زیادہ تیز ہوتی ہے مگر دوسری اقوام بھی جو پڑھی لکھی کبھی جاتی ہیں ان سے تعلق رکھنے والے ان پڑھوں کی عقلیں بھی مقابلہ ان سے تیز ہوتی ہیں۔چوڑھے وغیرہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی نہیں سمجھ سکتے۔یہ فرق کیوں ہے۔اس لئے کہ ایک تو تعلیم کا اثر ہے اور ایک تمدن کا۔جس رنگ میں یہ قومیں باتیں کریں گی وہ بہت ادنی درجہ ہوگا۔ان کی باتیں اونی ہونگی۔اور گالیاں دیں گے۔بات میں خشونت ہوگی۔عورتوں سے سختی کریں گے۔جب بات کریں گے تو ادب اور لحاظ نہیں ہو گا۔مگر جو قومیں شریف ہیں ان کی حالت ان سے مختلف ہوگی۔علاوہ علم کے دولت اور حکومت سے بھی بات کرنے کا طریق بدل جاتا ہے۔تو معلوم ہوا کہ میل ملاپ کے طریق بڑوں سے بات کرنے کے آداب ، بیوی خاوند کے تعلقات ان سب باتوں میں علم کے ساتھ ساتھ ترقی ہوتی ہے۔اور صفائی آتی ہے۔جو قو میں گرتی ہیں۔وہ ان معاملات میں بھی گر جاتی ہیں۔ہمارے ملک کے لوگ اخلاق کے لحاظ سے یوں تو یورپ والوں سے اچھے ہیں۔مگر تعلیم و تربیت نے ایک تغیر کر دیا۔جو ہمارے ملک والوں میں نہیں ان میں ہے۔مثلاً ولایت والوں کی یہ حالت ہے کہ اگر سٹیشن پر لوگ ٹکٹ لینے کے لئے جمع ہوں تو وہ اس ترتیب سے کھڑے ہونگے جس سے آئیں گے۔دوسرا پہلے سے آگے نہیں بڑھے گا۔اور تیسرا دوسرے سے آگے نہیں بلکہ اس