خطبات محمود (جلد 7) — Page 306
56 تجارت پیشہ احمدیوں کیلئے نصائح (فرموده ۲۳ جون ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج میں اپنی جماعت کے ایک خاص حصے کے متعلق بعض باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں گے مگر اس میں ساری جماعت کے لئے بھی فائدہ ہے۔اس لئے کہ وہ حصہ ایسا نہیں کہ وہ کسی خاص قوم سے تعلق رکھے۔بلکہ ہر ایک کے لئے ممکن ہے کہ اس میں شامل ہو جائے۔اور ممکن ہے کہ اس طرح پر نصائح سب لوگوں کے لئے مفید ہوں۔وہ حصہ تاجروں کا حصہ ہے۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ میں طبعا اس بات کا خواہش مند ہوں اور ہر ایک وہ شخص جو احمدیت سے تعلق رکھتا ہے اس بات کا خواہش مند ہونا چاہیے کہ یہ جماعت ترقی کرے۔دین میں بھی اور دنیا میں بھی۔اور اس کی ترقی کے لئے جس قدر بھی جائز اخلاق کے اندر ذرائع ہوں وہ استعمال کئے جائیں۔کوئی مذہب اس خواہش سے نہیں روکتا۔یہ خواہش مجھ میں بھی ہے اور ہر ایک احمدی کے دل میں ہوگی۔لیکن ہر ایک کام کے لئے کچھ ذرائع ہوتے ہیں۔میں نے اس طرف بارہا توجہ دلائی ہے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کام کے لئے خدا نے جو راستہ اور ذرائع رکھے ہیں انہی پر چلنے اور ان کو استعمال کرنے سے کامیابی ہو سکتی ہے۔اور ان کو ترک کرنے سے ناکامی ہوتی ہے۔ذرائع سے کام نہ لینے کی غلطی مختلف مذاہب کے لوگوں کو مذہب کے بارے میں لگی ہے۔وہ محض خالی کوشش کو کامیابی کا ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں۔اگر ایک شخص سارا دن خدا کے لئے کام کرتا اور رات بھر اس کے لئے جاگتا ہے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے کی وجہ سے کیوں جنم میں جائے۔وہ کہتے ہیں اصل چیز تو محبت الہی ہے۔اگر ایک شخص کو جہالت سے اصل نماز کا پتہ نہیں لگتا اور وہ اپنے رنگ میں عبادت کرتا ہے۔اگر وہ رمضان کے روزوں کی بجائے یونہی فاقہ کشی کرتا ہے۔یا حج بیت اللہ کرنے کی بجائے یونسی خدا کے لئے گھر بار چھوڑ کر جنگل میں چلا جاتا ہے۔یا مقررہ طریق پر زکوۃ دینے کی بجائے اپنے مال کا چالیسواں حصہ نہیں بلکہ