خطبات محمود (جلد 7) — Page 304
۳۰۴ مضرات سے بچاؤ ہو گیا۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ گھر والے کے دوست کا ادب ملازم وغیرہ خدام بھی کرتے ہیں جب ایک شخص خدا کا ہو جائے تو دنیا کی چیزیں اس کی تائید کرتی ہیں۔بعض دفعہ انسان ایک چیز کی خواہش کرتا ہے مگر اس کو پتہ نہیں ہوتا کہ اس میں فائدہ ہے۔کیونکہ ممکن ہے جس چیز کو وہ مفید سمجھتا ہو وہ اس کے لئے مفید نہ ہو۔خدا رب العالمین ہے اس نے اس کے لئے بہتر سمجھا کہ یہ چیز نہ دی جائے۔دیکھو بچہ آگ میں پڑنے لگے تو ماں باپ روکتے ہیں خواہ بچہ روئے مگر وہ اس کو آگ سے بچاتے ہیں اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ کیسے ماں باپ ہیں کہ بچہ روتا ہے اس کو آگ میں پڑنے نہیں دیتے تو وہ بے وقوف ہو گا۔اگر مومن کوئی دعا کرتا ہے جو اس کی خواہش کے مطابق قبول نہیں ہوتی تب بھی وہ ناخوش نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جانتا ہے اس میں میرے لئے کوئی مضرت ہوگی۔ایک قصہ ہے کہ ایک سپیرا خاص قسم کا سانپ پکڑ کر لایا اس نے اس کو حفاظت سے بند کر دیا اور خیال کیا کہ اس کے ذریعہ آسانی سے روٹی کما سکوں گا کوئی اس کا رشتہ دار اس کو چرا کر لے گیا۔اس نے جب دیکھا تو سانپ غائب تھا۔اس نے ادھر ادھر ڈھونڈا نہ ملا۔اس کو بہت صدمہ ہوا اور وہ بہت رویا اور بہت دعا کی اتنے میں اس کو اطلاع ملی کہ اس کا ایک رشتہ دار مرگیا ہے یہ وہاں گیا تو پتہ لگا کہ ایک سانپ نے اس کو ڈس لیا جس کا تریاق معلوم نہیں ہو سکا۔جب اس نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ وہی سانپ تھا جو اس نے پکڑا تھا۔اور وہ چرا کر لے گیا تھا۔دیکھ لو اگر اس کی دعا قبول ہوتی تو پھر اس شخص کی بجائے اس کی لاش پڑی ہوتی اگر کسی مومن کی دعا قبول نہیں ہوتی تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ ہی ہے جو میرے فائدہ کے لئے روکیں ڈالتا ہیں۔اس کو اس سے تسلی ہو جاتی ہے اور وہ الحمد للہ رب العالمین کہتا ہے۔دوسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ چیزیں جن میں اس کی خوشی ہوتی ہے اس کے سامان بہم پہنچ جائیں اس لئے فرمایا الحمد لله رب العالمین الرحمن وہ خدا جو رحمان ہے غیب سے خود بخود اس کے لئے سامان بہم پہنچائے گا جس سے وہ خوشی سے زندگی گزارتا ہے۔تیسری بات یہ ہوتی ہے کہ انسان کو جو سامان میں ان کو استعمال کرنے سے نیک نتائج نکلیں اگر دکان میں مال ڈالا اور نفع نہ ملا تو کیا فائدہ پس مومن کو تیسرا درجہ الرحیم کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے کہ اس کے کاموں کا بدلہ خدا تعالی کی طرف سے ملتا ہے اور اس کی محبت ضائع نہیں جاتی۔چوتھی بات یہ ہوتی ہے کہ کام کمال کو پہنچ جائے۔طالب علم روز سبق پڑھتا ہے اور استاد کو سنا کر شاباش لیتا ہے ایک سالانہ امتحان ہوتا ہے ایک انٹرنس کا امتحان پاس کرتا ہے اور ایک یونیورسٹی کا اعلیٰ امتحان پاس کرتا ہے۔گویا کمال حاصل کرتا ہے۔اور یہ مالک یوم الدین کا نتیجہ ہے۔پس