خطبات محمود (جلد 7) — Page 242
۲۴۳ مثال ایسی ہی ہے۔جیسے نماز اور روزہ کے ابتلاء ہیں۔کہ اگر سردی ہو۔تو گرم پانی کر لیا جائے اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں تکلیف ہے تو بیٹھ کر پڑھ لی جائے۔اور اگر روزہ نہیں رکھا جاتا تو دوسرے وقت میں رکھ لیا جائے۔مگر صحابہ کے ابتلاء کی مثال یہ نہ تھی۔بلکہ یہ تھی کہ جیسے یک دم مکان اوپر آگرے یا جیسے سارا سال محنت کرنے کے بعد جب کھیتی تیار ہو تو آگ لگ جائے۔ہماری جماعت پر جو ابتلا آرہے ہیں۔اگر پہلوں کے ابتلاؤں کو دیکھا جائے۔تو اول تو میں اپنے لئے انہیں ابتلا کہتا ہی جائز نہیں سمجھتا۔کیونکہ پہلوں کے مقابلہ میں انہیں ابتلا کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔مگر پھر بھی یہ ترقی کا زینہ ہیں۔اگر ہماری جماعت کے لوگ ان کو برداشت کرلیں گے تو ترقی کے اعلیٰ زینہ اور ایمان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں گے۔اور اصل اور حقیقی ایمان وہی ہوتا ہے جو ابتلاؤں میں سے گذرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔پس تم اپنے ایمانوں پر غور کرو۔جس قسم کے تمہارے ایمان ہیں کیا ان کے بدلے میں تم پچاس سال کی زندگی پانے کے بھی مستحق ہو۔اگر نہیں تو پھر ابدی زندگی کس طرح پا سکو گے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ تم پر ابتلاء آئیں۔اور تمہارا ایمان پختہ ہو۔کیونکہ اس کے بعد ابدی زندگی حاصل ہوتی ہے۔خدا تعالی ہم پر اپنا فضل کرے۔اور محض اپنے کرم سے اپنا قرب عطا کرے۔اور ہمیں ایسا ایمان نصیب کرے۔جس کے بعد ابدی زندگی حاصل ہو۔ا بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الایمان الفضل ۱۶ اپریل ۶۱۹۲۲ )