خطبات محمود (جلد 7) — Page 206
ہے۔مگر دوسری حدیث میں آتا ہے۔کہ جب مرد و عورت جمع ہوں۔خواہ انزال نہ ہو۔تو بھی غسل واجب ہو جاتا ہے راوی دونوں حدیثیں بیان کر دے گا مگر مفتی دونوں کو سامنے رکھ کر فتوی دے گا۔اسی طرح میں نے سنا ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ تم مجھے کافر مرتد کچھ قرار دو مگر میں یہ کام کروں گا۔سننے والے کے دل پر اس کے دو ہی اثر ہونگے یا تو وہ سمجھے گا کہ ان کے ہاں کفر و ارتداد اتنا سستا ہے کہ معمولی باتوں پر ایسے لفظ بول دیتے ہیں دوسرے یہ کہ یہ شخص اپنی بات یا خواہش پوری کرنے کے لئے کفر و ارتداد سے بھی خوف زدہ نہیں ہوتا ایسے لوگ گویا اپنا کام کرنے کے خواہش مند ہیں کفر و ایمان سے تعلق نہیں رکھتے۔یہ بداخلاقی کی باتیں ہیں ان سے روکنا ضروری امر ہے۔تاکہ اس کا اثر عام نہ ہونے پائے۔اس پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت صاحب کے وقت میں بھی ایسے واقعات ہو جاتے تھے۔یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ایسے واقعات ہو جاتے تھے۔اور وہ لوگ بھی صحابہ یعنی ساتھ رہنے والے کہلاتے تھے اور ہم ان کی تقسیم ایمان کے لحاظ سے کرتے ہیں یا بعض لوگ اسلام میں جمہوریت ثابت کرنے کے لئے کہا کرتے ہیں کہ حضرت عمر پر ایک شخص نے اعتراض کیا تھا کہ تم نے ایک چادر سے کرتا کیسے بنایا۔یہ تو دو چادر کا ہے۔حالانکہ تمہارے حصہ میں ایک آئی تھی مگر ان کو معلوم نہیں کہ معترض ایک عام بدوی آدمی تھا۔کیا یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر پر اعتراض کرنے والے عثمان، علی، طلحہ و زبیر وغیرہ لوگ تھے یا کہدیا جاتا ہے کہ آنحضرت پر اعتراض کیا گیا تھا کہ تقسیم ٹھیک نہیں۔یہ ناواقف لوگوں کی باتیں ہیں جو حجت نہیں ہو سکتیں۔یہ کوئی نیکی کی بات نہیں کہ تم کہو کہ چونکہ حضرت صاحب کے وقت میں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوتی تھیں۔پس یہ بداخلاقی کی باتیں ہیں ان کو چھوڑو۔اور اخلاق پر قابو پاؤ۔مومن کی زبان چھری کی طرح نہیں ہوتی۔تمہارے اندر نرمی ہونی چاہئیے اور جماعت میں اس بد اخلاقی کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔ایک شخص نے ایک شخص کو مارا۔اس کی معمولی کھیل ہو گئی۔یہ خطرناک باتیں ہیں جن سے ایمان سلب ہو جاتا ہے۔تم معالمہ میں چھوٹوں پر ظلم نہ کرو۔نہ غریبوں کو دکھ دو۔انسانوں سے معاملہ میں مومن کافر کا سوال نہیں اگر کوئی شخص دہریہ کو ضرر پہنچاتا ہے تو وہ خدا کے نزدیک مسلمان کو ضرر پہنچانے سے زیادہ برا کام کرتا ہے۔میرے نزدیک جو شخص ہندو یا غیر احمدی یا عیسائی یا دہریہ کو دکھ دیتا ہے وہ مسلمان کو دکھ دینے کی نسبت دگنا گناہ کرتا ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ماں باپ کو گالیاں دینا بڑا گناہ ہے سوال ہوا کہ ایسا کون ہے۔جو ماں باپ کو گالی دے فرمایا کہ جو دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ بدلے میں اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو یہ گویا خود اپنی ماں کو گالی دیتا ہے۔کیونکہ اگر دہریہ کو دکھ دے گا تو وہ خدا کو گالیاں دے گا کہ یہ اس کا مومن ہے۔ہندو یا