خطبات محمود (جلد 7) — Page 205
۲۰۵ کی طرف کھلتا ہے میں نے شور سنا اور کھولا۔تو میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ایک شخص زور زور سے کہہ رہا تھا اس حرام زادے کو میرے سامنے لاؤ جو کہتا ہے کہ کتے کا جوٹھا کھانا جائز نہیں۔حضرت عمر کے زمانہ میں کہا گیا تھا کہ کسی کو حرام زادہ کہنے والے کو حد لگائی جائے گی۔وہ شخص بازار میں کہہ رہا تھا کسی کو احساس نہ تھا۔لوگ سنتے تھے اور روکتے نہ تھے گویا یہ معمولی بات ہے۔جو ہونی چاہیے یہ بے حسی خطرناک علامت ہے حضرت مسیح موعود ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک سودائی عورت تھی۔جب وہ بازاروں میں چلتی تو بچے اس کو تنگ کرتے۔اور وہ گالیاں دیتی۔آخر بچوں کے والدین نے ان کو گھروں میں روک لیا۔صبح کو جو وہ عورت نکلی اور اس کو بچے نہ ملے تو ہر ایک شخص کے گھر میں جا کر کہنے لگی کہ کیا تمہارے بچے پر بجلی گری تھی یا چھت گر گئی تھی کس طرح مر گیا۔آخر والدین نے فیصلہ کیا کہ یہ تو گالیاں چھوڑتی نہیں ہم اپنے بچوں کو کیوں روکیں۔تو بعض لوگوں کو گالیاں سننے کی عادت ہوتی ہے تم اگر حرام زادے کے لفظ کو برا نہیں سمجھو گے اور یہ عام طور پر استعمال ہوتا رہے گا تو فحش بڑھ جائے گا اور جماعت کا اخلاقی معیار گر جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اشاعت فحش سے منع فرمایا ہے۔اس میں کسی پر اتمام لگانا یا گالیاں دینا وغیرہ سب شامل ہے۔اگر مجالس میں اس قسم کے لفظ استعمال ہوتے بچے سنیں گے تو ان کی زبان پر بھی ایسے ہی الفاظ جاری ہو جائیں گے۔جس بات پر دوسرے کو حرام زادہ کہا جا رہا تھا وہ یہ تھی کہ اضطرار کی حالت میں کتے کا جوٹھا کھانا جائز ہے۔اب اضطرار کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ ایک انسان بھوک سے مر رہا ہے۔ایسی حالت میں تو سور جائز ہے تو کون عقل مند کتے کے جوٹھے سے منع کرے گا لیکن اگر نفسانی اضطرار مراد ہے مثلاً عمدہ کھانا تیار تھا۔کتے نے جو ٹھا کر دیا اور جی للچا رہا ہے کہ اس کو کیسے چھوڑیں تو اس کو کوئی مومن بھی کھانا پسند نہیں کرے گا۔اس صورت میں گویا سب کے سب مومن نعوذ باللہ حرام زادے ٹھرے۔اس کے مقابلہ میں دوسرا بھی شور مچا رہا تھا نہیں معلوم وہ کون تھا۔ممکن ہے وہ بھی گالیاں دے رہا ہو۔بہرحال یہ مومنانہ شان نہیں کہ فتووں پر لڑائی اور جھگڑا ہو۔حضرت عبداللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس وغیرہ صحابہ میں اختلاف تھا۔مگر کبھی بازاروں میں کھڑے ہو کر گالی گلوچ نہیں کرتے تھے۔مگر میں کہتا ہوں کہ کب اس شخص نے قرآن کریم کو پڑھا۔کب وہ مفتی بنایا گیا۔افتاء امیر کر سکتا ہے یا مامور خلیفہ کر سکتا ہے یا جس کو وہ مقرر کرے۔صحابہ میں فتویٰ دینے والے مقرر تھے۔بعض لوگ حدیث تک بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے۔حالانکہ حدیث اور افتاء میں فرق ہے۔قرآن کریم کی ایک آیت کا ترجمہ بتانا اور ہے۔مگر مختلف آیات کو ملا کر استنباط کرنا اور بات ہے ایک حدیث میں ہے الماء بالماء کہ جب عورت سے جماع میں انزال ہو تو غسل واجب ہوتا