خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 194

۱۹۴ پہلے سال بھی جو گذر گیا ہے کر سکتا تھا۔اور اگر نئے سال بھی نہ کرنا چاہے تو نیا سال اسے مجبور کراکر نہیں کرائے گا پھر وہ کیا نئی چیز ہے جو نیا سال لایا ہے؟ اور وہ کیا چیز ہے جو نئے سال کے شروع ہونے پر انسان کے دل میں امنگیں پیدا کر دیتی ہے؟ یا واقعہ میں کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ دو میرے نزدیک ہر نیا سال جو آتا ہے۔بعض نئی باتیں اپنے ساتھ لاتا ہے۔گو وہ پرانی بھی ہوتی ہیں۔لیکن ایک لحاظ سے نئی بھی ہوتی ہیں۔پرانی تو اس لحاظ سے کہ اگر انسان چاہتا۔تو ان کو پچھلے سال بھی مہیا کر سکتا تھا۔اور نئی اس لحاظ سے کہ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ اگر اپنے نصب العین کو قریب ترین نہ قرار دے لے تو بھول جاتا ہے۔اور اس سے دور جا پڑتا ہے۔جب تک انسان اپنی منزل مقصود کے سفر کو ٹکڑے نہ کرتا جائے اس کے قابو میں نہیں رہتا مثلاً دیکھو شریعت نے بھی اوقات مقرر کر دئے ہیں۔جمعہ مقرر کر دئے ہیں۔چھٹے دن کے بعد ساتواں دن جمعہ کا آجاتا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔فلاں عبادت کرو گے تو ایک نماز سے لیکر سری نماز کے وقفے تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔اور فلاں عبادت کرو گے تو جمعہ سے لیکر جمعہ تک کے گناہ بخشے جائیں گے۔فلاں عبادت کرو گے تو مہینہ کے گناہ بخشے جائیں گے۔فلاں عبادت کرو گے تو سال کے گناہ بخشے جائیں گے۔فلاں عبادت کرو گے تو سو سال کی عبادت کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔یہ تقسیم جو ایک وقت سے دوسرے وقت تک ایک ہفتہ سے ایک مہینہ ایک سال اور پھر کئی سالوں کی کیوں کی گئی ہے۔اسی لئے کہ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ ایک محدود زمانہ کو تو وہ مستحضر رکھ سکتا ہے لیکن غیر محدود زمانہ کو نہیں رکھ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مدرسہ والوں نے تعلیم کی تقسیم اوقات میں رکھ دی ہے۔جو شخص پڑھنے کے لئے نکلتا ہے اسے پڑھتے رہنا چاہیے۔جب تک کہ تعلیم نہ حاصل ہو جائے۔خواہ اسے دو تین چار پانچ دس پچاس سال لگ جائیں۔مگر ایسا نہیں ہوتا۔بلکہ ایک سال کے بعد جماعتیں بدلتی اور ہر جماعت کے لئے وقت کی حد مقرر ہے۔اور تعلیم پانے کے عرصہ کی تقسیم سالوں میں کر دی گئی ہے۔کیوں؟ اسی لئے کہ جب تک انسان کے سامنے زمانہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہ لایا جائے وہ اپنے مقصد اور مدعا کو مستحضر نہیں رکھ سکتا اور وہ بات اسے بھول جاتی ہے جسے حاصل کرنا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے۔کہ مدرسہ والوں نے تعلیم کی مدت کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔جس وقت ایک لڑکا سکول میں ہوتا ہے۔تو اس کے سامنے بی۔اے اور ایم۔اے کی ڈگری نہیں ہوتی۔بلکہ یہی ہوتا ہے۔کہ پہلی جماعت کا امتحان پاس کرنا ہے۔اس طرح اس کی ہمت بلند اور حوصلہ بالا رہتا ہے۔کیونکہ جب ایک حصہ کو وہ پورا کر لیتا ہے۔تو اسے اپنی کامیابی کا احساس ہوتا ہے۔اور پھر وہ آگے بڑھتا ہے۔اور اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کر کے قدم آگے بڑھاتا ہے۔اس کی مثال اس بچہ کی سی ہوتی ہے جس کا ذکر ہم