خطبات محمود (جلد 7) — Page 193
۱۹۳ 36 جماعت احمدیہ کا پروگرام (فرموده ۶ / جنوری ۱۹۲۲ء) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔اسلامی طریق کے مطابق محرم سے نیا سال شروع ہوا کرتا ہے۔لیکن ملک کا دستور اور اس کی رسوم بھی بہت کچھ انسان کے اعمال پر اثر ڈالتی ہیں۔ہمارے ملک کے دستور کے مطابق اور دستور العمل کے مطابق جنوری سے نیا سال شروع ہوتا ہے۔ہمارے کاموں میں بھی اس نئے سال کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔اس لئے ہمارے عام رواج اور دستور کے مطابق یہی کہنا پڑتا ہے کہ یہ ایک نیا سال ہے جو ہمارے لئے چڑھا ہے اور اس نے سال میں یہ پہلا جمعہ ہے جو ہمارے لئے آیا ہے۔ابھی زیادہ دن نہیں گذرے کہ ہماری جماعت کے احباب مختلف جہات سے اکٹھے ہو کر قادیان جلسہ کے لئے آئے تھے۔اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے بولنے والوں کو سنانے کی جو توفیق دی۔انہوں نے سنایا۔اور سننے والوں کو سننے کی جو توفیق دی۔انہوں نے سنا۔قادیان کے رہنے والوں کو خدمت کا جو موقع خدا تعالیٰ نے دیا۔اس سے جنہوں نے فائدہ اٹھایا۔اٹھایا۔اس کے بعد وہ سال ختم ہو گیا۔اور نیا شروع ہوا۔یہ ایک دورہ ہے جو اسی طرح گذرتا چلا آرہا ہے۔اور اسی طرح گذر تا چلا جائے گا۔سال کے بعد جب لوگ کہتے ہیں نیا سال شروع ہو گیا۔اس موقع پر ہر شخص کے دل میں نئی امنگ اور نئے ارادے پیدا ہوتے ہیں۔مگر کیا چیز نئی شروع ہوتی ہے؟ کیا انسان کی زندگی نئی شروع ہوتی ہے زندگی کا تو بہت پہلے سے سلسلہ چلا آتا ہے۔پھر کیا علم میں کوئی جدت پیدا ہو جاتی ہے۔کیا نیا سال اپنے ساتھ نئے علوم لایا کرتا ہے۔نہیں یہ تو نہیں ہوتا۔علوم تو حاصل کرنے سے ہی آیا کرتے ہیں۔اگر کوئی پچھلے سال علم حاصل کرتا۔تو اسے علم حاصل ہو جاتا۔اور اگر نئے سال علم حاصل نہ کرے گا۔تو نہیں آئے گا۔نیا سال اسے علم نہیں سکھا سکتا۔پھر کیا نیا سال کوئی نیا طریق عمل لاتا ہے۔جب سے انسان کو طاقتیں اور قوتیں ملی ہیں طریق عمل تو وہی ہے جو پہلے مقرر ہو چکا۔تو عمل کے لحاظ سے بھی نیا سال کوئی نئی چیز نہیں لاتا۔جو اعمال انسان آنے والے سال میں کرنا چاہتا ہے وہ۔