خطبات محمود (جلد 7) — Page 171
فلاں کام کر سکتا ہے یا نہیں۔حضرت عمر نے خالد کی جگہ ابو عبیدہ کو تو مقرر کیا۔مگر ابو ہریرہ کو مقرر نہ کیا کہ وہ یہ کام نہ جانتا تھا۔تو یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جو ایک کام کرنے کی کم لیاقت رکھتا ہے اس کے سپرد اس کے مقابلہ میں کام کر دیا جائے جو سابق نہیں۔لیکن زیادہ لیاقت رکھتا ہے۔لیکن یہ نہیں ہو سکتا۔کہ مثلاً جو انگریزی نہ جانتا ہو۔اسے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر بنا دوں۔کم لیاقت کو مد نظر رکھ کر تھوڑی خرابی بھی گوارا کی جا سکتی ہے۔اور سابقون کا جو حق اسلام نے مقرر کیا ہے۔اور جو صحابہ کے وقت ملتا رہا ہے۔وہ دینا ضروری ہے۔دوسری بات اس کے الٹ ہے۔اور وہ مولفتہ القلوب کی رعایت ہے۔چونکہ یہ بات خدا نے مقرر کی ہے اس لئے رعایت نہ ہوئی۔بلکہ ان لوگوں کا حق ہوا ایک زیادہ کام کرنے والا ہے اور ایک مولفتہ القلوب کی مد کا۔خدا نے بھی یہی رکھا ہے اور شریعت بھی یہی کہے گی کہ زیادہ کام کرنے والے کو نہ دو مگر مولفتہ القلوب کو دے دو۔رسول کریم ایک دفعہ مال تقسیم کر رہے تھے۔کہ کسی کو جوش آیا کہ آپ نے فلاں کو نہیں دیا۔عرض کی کہ فلاں کو کچھ نہیں ملا۔رسول کریم نے کوئی توجہ نہ کی۔پھر اس نے کہا۔پھر آپ نے توجہ نہ کی۔پھر کبھی رسول کریم مال تقسیم کرتے وقت ایسے شخص کو دے دیتے۔جو کمزور ایمان والا ہوتا۔فتح مکہ کے بعد جو مال آئے وہ آپ نے مکہ والوں کو دے دئے۔حالانکہ جنگ کرکے خون بہانے والے جو تھے ان کو نہ دئے۔اس موقع پر ایک کمزور نے کہہ بھی دیا۔کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔اور مال اوروں کو دے دیا گیا ہے۔اس پر رسول کریم نے ان لوگوں کو بلوایا۔اور کہا انصار تم کہہ سکتے ہو۔کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اکیلا تھا۔اسکی قوم نے اس کو رد کر دیا تھا۔اس وقت ہم اس کو لائے اور جب کوئی اس کی مدد نہ کرتا تھا ہم نے اس کی مدد کی۔ہم نے اس کے لئے خون بہائے لیکن جب لوٹ کا مال آیا تو اس نے اپنے ہم قوموں کے دے دیا۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا۔اس بات کا ایک اور پہلو بھی ہے۔اور اگر چاہو تو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو۔کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارے پاس آیا۔ہمارے گھر آیا۔اور جب اس کا وطن فتح ہوا۔تو اس کی قوم والے تو اونٹ بکریاں لے گئے۔اور ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ساتھ لے آئے۔اب جو چاہو کہو۔میرے خیال میں اس سے زیادہ زجر کوئی نہیں ہو سکتی تھی۔یہ کافر اور فاسق نام رکھ دینے سے بھی زیادہ سخت تھی کہ تم اونٹ لے جانا چاہتے ہو یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ والا تھا۔مکہ اس کا وطن تھا۔مگر وہ مکہ نہیں گیا۔مدینہ گیا۔اس پر انصار رو پڑے۔اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ کسی نادان نوجوان نے یہ بات کی ہے۔آپ نے فرمایا۔جو بات کہی گئی۔وہ تو کسی گئی اب تم دنیاوی ترقی کی امید نہ رکھنا۔اور حوض کوثر پر ہی آکر مجھ سے مانگنا۔اور ایسا