خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 170

14۔مشورہ دو تب انہوں نے مشورہ دیا۔تو ایک حد تک کام میں سابقون کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور ان کے درجہ کو مد نظر رکھنا لازمی ہے۔گو وہ کام اور لیاقت کے لحاظ سے دوسروں سے کم ہی ہوں۔اب دیکھئے رائے کی غلطی کس طرح لگ سکتی ہے۔یوں تو ہر ایک اپنے آپ کو لائق سمجھتا ہے۔اور اپنی چیز کو اچھا جانتا ہے۔کہتے ہیں کسی بادشاہ نے دربار میں یہ تجربہ کرنے کے لئے کہ اپنی چیز کو کس طرح اچھا سمجھا جاتا ہے۔ایک حبشی کو ٹوپی دی اور کہا لڑکوں میں سے جو لڑکا تمہیں خوبصورت معلوم ہو اس کے سر پر رکھ آؤ۔وہ سیدھا گیا۔اور امراء کے لڑکوں کو چھوڑ کر اپنے بدشکل لڑکے کے سر پر رکھ آیا۔بادشاہ نے پوچھا یہ کیا۔تو اس نے کہا۔مجھے یہی لڑکا سب سے خوبصورت نظر آتا ہے۔اس کے سر پر ٹوپی رکھ آیا ہوں۔بیٹا تو پھر بھی ایک واسطہ سے اپنا ہوتا ہے۔اپنی نسبت تو انسان یہی سمجھتا ہے۔کہ میں ہی سب سے بڑا ہوں۔اور ہر بات میں دوسروں سے زیادہ قابلیت رکھتا ہوں۔لوگ جنگ کی خبریں پڑھتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں جنرل جافرے اور جنرل فاش نے یہ غلطی کی۔اگر میں ہوتا۔تو اس طرح نہ کرتا۔لیکن اگر ان کے سپرد کام کر دیا جائے تو پھر پتہ لگے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں۔مگر ہم کہتے ہیں لوگ اپنے آپ کو جو بھی درجہ دیتے ہیں اگر مان لیا جائے کہ ٹھیک ہے۔تو پھر ضروری ہے کہ سابقون کی ان کے مقابلہ میں خاص رعایت کی جائے۔اور میں نے اس بات کا خاص لحاظ رکھا ہے۔صدر انجمن کے ممبروں میں اس وقت تک کسی اور کو داخل نہیں ہونے دیا۔حالانکہ علمی لحاظ سے بھی اور دوسرے حالات کی وجہ سے بھی کئی اور لوگ موجود ہیں۔مثلاً مولوی عبد الماجد صاحب پروفیسر ہیں۔خاں غلام اکبر خان صاحب حج ہیں۔سیٹھ عبداللہ صاحب ہیں۔منشی فرزند علی صاحب ہیں۔ملک صاحب خان صاحب اکسٹر اسٹنٹ ہیں۔حسام الدین صاحب کلکٹر ہیں۔خان صاحب محمد حسین صاحب پینشنر حج ہیں۔یہ دنیاوی لحاظ سے بڑے بڑے عہدوں پر ہیں۔علمیت اور قابلیت بھی اچھی رکھتے ہیں۔مگر چونکہ حضرت مسیح موعود کی صحبت میں نہیں رہے۔میں ان کے مقابلہ میں ان کو جو دنیاوی لحاظ سے چھوٹے ہیں مگر مسیح موعود کی صحبت میں رہے ہیں مقرر کرتا ہوں۔اور ان کو مقرر نہیں کرتا اب اگر وہ سمجھیں کہ ہم لائق ہیں ہمیں مقرر کرنا چاہیئے۔اور دوسرے لوگ بھی خیال کریں کہ ان کی بجائے کم قابلیت کے لوگوں کو داخل کرنا بے وقوفی ہے۔تو ان کی مرضی۔مگر در حقیقت ایسا نہیں ہے۔کیونکہ یہ لوگ سابق ہیں۔اور ان کا حق ہے۔کہ دوسروں پر انہیں مقدم کیا جائے۔اور جب تک یہ جماعت ہے اور کام کو معمولی حیثیت سے بھی کر سکتی ہے۔اس کا حق ہے۔کہ اس کے سپرد کیا جائے۔اور اس کے مقابلہ میں دوسروں کا حق نہیں ہے۔ایک تو یہ حکمت ہوتی ہے۔تقسیم مدارج تقسیم مال اور تقسیم عمل میں کہ یہ دیکھ لیا جاتا ہے کہ