خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 110

خواہش کرنا عبث فعل ہے۔اگر تم سچے ہو اور تم نے بیعت کے اقرار میں فریب نہیں کیا۔اور تم جھوٹ نہیں بولے۔تو اب تمہارے پاس تمہارا کچھ نہیں رہا۔کیونکہ تم کہہ چکے ہو کہ ہم وہ قربان کر چکے۔اس لئے میں جو کچھ تمہیں کہتا ہوں وہ اپنے ذاتی نفع اور فائدہ کے لئے نہیں۔بلکہ محض اس لئے کہتا ہوں کہ تم نے جو مجھ سے معاہدہ کیا ہے تمہیں بھی اس سے کوئی فائدہ ہو۔اور جو کچھ مجھے ملا ہے میں تمہیں دے دوں۔مجھ سے دیانتداری تقاضا کرتی ہے کہ جو معاہدہ تم نے مجھ سے کیا ہے اس کے مطابق تمہیں وہ کچھ دوں جو مجھے ملا ہے اور تمہیں صحیح راستہ دکھاؤں۔اور تمہیں بتاؤں کہ اب تک تم اس راستے کو چھوڑ کر دوسری طرف جا رہے ہو۔پس میں نے جو کچھ کہا اور آئندہ جو کچھ کہوں گا وہ اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہے۔میں نے تمہیں بتایا ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے۔وہ خدا کے منشاء کے مطابق ہے۔میں نے رڈیا میں ایک شخص کو دیکھا ہے۔اس نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اس لئے کہ تم خوشبو سے محبت کرتے ہو۔میں نے اس وقت اپنے کپڑوں کو سونگھا تو مجھے ان میں خوشبو معلوم نہیں ہوئی۔میں نے اسی حالت رویا میں سمجھا کہ اس خوشبو سے مراد وہ خطبے ہیں جو میں نے ایمان کی مضبوطی کے لئے بیان کئے ہیں۔کیونکہ ایمان کو خوشبو سے تعبیر کیا گیا ہے۔چونکہ میں ایمان کو دنیا میں پھیلانا چاہتا ہوں۔اس لئے اس شخص نے کہا کہ چونکہ تم خوشبو سے محبت رکھتے ہو اس لئے میں تم سے محبت رکھتا ہوں ورنہ ظاہری طور پر اس وقت میرے کپڑوں کو خوشبو نہیں لگی ہوئی تھی۔اس وقت میں سمجھا کہ یہاں خوشبو سے مراد یہ خطبات ہیں جن میں دعوت ایمان دی گئی ہے۔پس خوب یاد رکھو کہ اجتماع کوئی چیز نہیں۔تم یہ مت خیال کرو کہ تم تھوڑے تھے اب بہت ہو گئے۔تم ذلیل تھے اب معزز ہو گئے۔تمہاری نظر اس طرف مت جائے کہ آج ہندوستان میں پیدا ہونے والی ہر ایک تحریک تمہاری ہمدردی کی طالب ہوتی ہے۔اور اس کے محرک چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کے ساتھ مل جاؤ کہ ان کی آواز مؤثر ہو جائے۔لیکن کیا تم اپنے لوگوں سے اس لئے علیحدہ ہوئے تھے کہ لوگ تمہاری طرف انگلیاں کریں گے۔اور لوگوں کی تم پر نظر پڑے گی کہ یہ بھی کوئی ہیں۔لیکن تم یقین کرو کہ تمہارا یہ کام اس نیت سے نہ تھا۔جب تم اپنے اصل سے جدا ہوئے تھے۔تو اس وقت کسی عقل میں نہ آتا تھا کہ تم کو لوگ عزت کی نظر سے دیکھیں گے۔اور تم سے ہمدردی چاہیں گے۔بلکہ اس وقت تو تمہاری یہ حالت تھی کہ تم پر انگلیاں اٹھنے کی بجائے تم پر سے لوگ گذرتے تھے تاکہ تمہیں کچل دیں۔پس یہ غلط ہے۔کہ ہم اس لئے جدا ہوئے تھے۔کہ لوگوں کی انگلیاں ہماری طرف اٹھیں۔بلکہ ہم دیکھتے تھے۔کہ ہم کو کچلنے کی ہر ایک کوشش ہوگی اور لوگ