خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 111

HE ہمیں پامال کرنے کے درپے تھے۔اس وقت اگر ہمارا کوئی مدعا تھا تو سوائے چند مستثنیات کو چھوڑ کر جن کے دل میں عزت کی خواہش ہو ہماری یہ کوشش اور خواہش تھی کہ ہم خدا کو خوش کریں گے۔اگر خداتعالی خوش ہو۔اور وہ ہم سے راضی ہو تو دنیا کی نظر میں معزز ہونا یا ذلیل کوئی قیمت نہیں رکھتا۔چندوں کا بڑھ جانا نہیچ ہے۔اور ہمارے کاموں کا پھیل جانا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔اگر ہم ایسی ہی باتوں پر خوش ہو سکتے ہیں تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے ملنے کے لئے جاتا ہے مگر راستہ میں اس کو ایک شیشے کی گولی مل جاتی ہے جس پر سورج کی شعائیں پڑتی ہیں اور ترچھی ہو کر نکلتی ہیں جو بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہیں۔اور بچہ اس پر خوش ہو جاتا ہے۔حالانکہ ماں کی ملاقات سے بڑھ کر وہ محبت کی چیز نہیں۔پس دنیا کی عزت یا مال کی طرف نظر کرنا خدا کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے۔جیسی ماں کی محبت کے مقابلہ میں شیشہ کی گولی پر خوش ہو جانا بلکہ اس سے بھی حقیر۔جو لوگ خدا کے مقابلہ میں دنیا کی عزت میں پڑ جاتے ہیں۔وہ اپنی عمر کو ضائع کرتے ہیں۔اور ایسا شخص نجات کا مستحق نہیں۔ہاں اگر کوئی شخص خدا کو مقدم کرتا ہے اور اس کی حالت سے یہ بات ظاہر ہے تو وہ خوش ہونے کا مستحق ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ خدا کا فضل ہی ہوتا ہے جس سے نجات ہوتی ہے۔اور کوئی شخص اپنے عمل کی بناء پر دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ نجات پائے گا۔کیونکہ سب سے بڑے عامل اور سب سے بڑے خدا کے فرمانبردار محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔آپ بھی اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ صدیقہ نے سوال کیا کہ آپ تو اعمال سے ہی بہشت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا نہیں عائشہ میں بھی خدا کے فضل سے ہی جاؤں گا۔پس جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جس کا ہر ایک سانس۔جس کا چلنا پھرنا عبادت میں داخل تھا جس کا سونا اور جاگنا عبادت میں گنا جاتا تھا جس کی ہر حرکت و سکون عبادت تھی۔حتی کی جس کا پاخانے پیشاب کے لئے جانا اور اپنی بیویوں کے پاس جانا بھی عبادت تھا۔اتنا بڑا عبادت گزار انسان جب کہتا ہے کہ میں اپنے اعمال سے بہشت میں نہ جاؤں گا۔بلکہ خدا کے فضل سے۔تو اور کون ہے جو کہے کہ میں عمل سے بہشت میں داخل ہو جاؤں گا۔یہ مت خیال کرد که رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل کیسے عبادت میں داخل ہو گیا۔کیونکہ ان کے متعلق خدا نے یہ بتایا ہے کہ ان کی ہر ایک حالت عبادت تھی۔ناواقف کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت کی ہر حرکت کیسے عبادت ہو گئی مگر تم یاد رکھو۔کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہر فعل عبادت تھا۔ہاں آپ کے سوا کسی کا ہر ایک فعل عبادت نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خدا نے فرمایا۔ولكم في رسول الله اسوة حسنه