خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 31

۳۱ - آبادی نہیں۔پھر یہ بھی دیکھا کہ یورپین ممالک کی دولت ان ممالک کی وجہ سے ہے جن میں وہ تجارت کر کے روپیہ کماتے ہیں۔اس سے انہیں خیال پیدا ہوا۔کہ جب دوسرے ممالک ہمارے ذریعہ دولت عزت اور طاقت حاصل کرتے ہیں تو ہم خود کیوں نہ ان باتوں کو حاصل کریں اور ان ہی کی طرح بن جائیں۔اس میں ان کے سامنے ایک چیز روک تھی۔اور وہ یہ کہ جہاں عزت دولت کا سوال آیا۔ہندو نے کہا مجھے ملے۔اور مسلمانوں نے کہا مجھے۔اس کشمکش میں کسی کو بھی نہ ملی۔لیکن اب انہیں خیال آیا اور ان کی نظر اس طرف پڑی کہ اگر ایک مسلمان کو عزت مل جائے تو بھی اپنے ملک میں ہی رہے گی باہر کے آدمی کو تو نہ ملے گی۔اس پر انہوں نے مسلمانوں کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھایا اور یقین دلایا کہ ان کی عزت وہ اپنی عزت سمجھیں گے اور کسی قسم کی شکایت نہ پیدا ہونے دیں گے مگر مسلمانوں کو ان کے متعلق پرانا تجربہ تھا۔کئی سالوں میں انہوں نے دیکھا تھا کہ ہندوؤں نے ان سے معاہدے کئے اور توڑ دیئے۔اس لئے وہ مطمئن نہ ہو سکتے تھے۔اور ہندو انہیں اس سے بڑھ کر یقین بھی کیا دلا سکتے تھے۔کہ کہہ سکتے تھے۔ہم تم سے برا سلوک نہ کریں گے۔لیکن مسلمان ان کے بہت سے وعدے دیکھ چکے تھے اس لئے وہ ان کے وعدوں کی کوئی حقیقت نہ سمجھتے تھے۔اور باوجود ہندوؤں کے اصرار کرنے کے کہ مسلمان ان سے مل کر غیر ملک کے لوگوں کو ہندوستان سے نکال دیں اور اس کے لئے بھائی بھائی بن کر کوشش کریں۔پھر بھی مسلمان ان کی بات کو قبول نہ کرتے تھے۔مگر زمانہ میں ایسے تغیرات ہوئے کہ ترکی جنگ میں شامل ہو گیا۔اور جس طرح ہمیشہ سے کھانے والی سلطنتیں اٹھاتی ہیں اس نے بھی نقصان اٹھایا۔فاتحین نے ترکی سے جو معاہدہ کیا وہ مسلمانوں کی امیدوں کے خلاف تھا۔میرے نزدیک اس کے بعض حصے درست ہیں اور بعض فی الواقع ظالمانہ ہیں۔مگر مسلمانوں کے مطالبات ایسے تھے کہ کوئی بھی فاتح ان کو پورا نہ کر سکتا تھا۔ان کا مطالبہ تھا کہ جنگ میں ہم نے بھی حصہ لیا ہے۔ہم نے بھی اپنے مسلمان بھائیوں پر گولیاں چلاتی ہیں۔ہم نے بھی اسلامی علاقے فتح کرنے میں جانیں دی ہیں۔اس لئے صلح کے وقت ہم سے بھی پوچھا جائے کہ کیا کرنا چاہیئے۔اور ہمارے مطالبات کو بھی پورا کیا جائے۔آسٹریلیا ،فرانس، بیلجیم، انگلینڈ وغیرہ ممالک کے لوگ بھی لڑے ہیں۔ان کے آدمی بھی مارے گئے۔ان کی صلح کے وقت باتیں سن لیں۔لیکن ایک بات ہماری بھی ترکوں کے معاملہ میں سن لیں۔اپنی قربانیوں کے لئے باقی سب کچھ لے لیں۔لیکن ہماری قربانیوں کے بدلے ترکوں کو چھوڑ دیں۔لیکن ایسا نہ ہوا۔ان کی یہ بات نہ مانی گئی۔اس وقت انہوں نے دیکھا کہ ترکی تباہ ہو گیا ہے اور ترکی کی تباہی کے ساتھ اسلام کی تباہی ہے۔گو واقعہ میں یہ بات نہ تھی۔بلکہ اسلام کی ترقی اس میں مرکوز تھی کہ فکت