خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 363

۳۶۳ میرے سامنے خطوط پیش کریں۔تو کم از کم دو گھنٹہ روزانہ میرا وقت بچ سکتا ہے۔مگر میں نے اس لئے کہ تا کوئی یہ نہ کہے کہ میرا خط خود نہ پڑھا۔یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ سارے خطوط پہلے خود پڑھتا ہوں اور پھر دفتر میں بھیجتا ہوں۔اور اگر کوئی بند خط دفتر میں چلا جائے تو ان کو ہدایت ہے کہ اس کو اسی طرح واپس کریں۔چنانچہ دفتر ڈاک والے اس قسم کے خط واپس میرے پاس بھیج دیتے ہیں تو بعض باہر کے لوگوں کو غلطی لگتی ہے۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خطوط براہ راست میرے پاس چنانچہ ہر مہینہ دس پندرہ مخطوط اس قسم کے آجاتے ہیں جن میں بڑی لجاجت کے ساتھ دفتر ڈاک والوں کو لکھا ہوتا ہے کہ مہربانی کر کے میرا سارا محط حضرت صاحب کو سنا دیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ میں خود سارے خطوط پڑھتا ہوں اور اب تو یہ انتظام کر دیا گیا ہے کہ بکس ڈاک خانہ میں جاتا ہے اس کی ایک چابی میرے پاس ہوتی ہے۔اور ایک پوسٹ ماسٹر کے پاس وہ بکس میں سارے خطوط ڈال کر تالا لگا دیتا ہے۔اور پھر میں خود اس کو کھولتا ہوں۔پس جبکہ تمام قادیان کے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ سب خبریں پہلے میرے پاس آتی ہیں اور اس سے مولوی سرور شاہ صاحب واقف ہیں۔تو ان کے خطبہ سے وہ مفہوم نکالنا جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے غلطی ہے۔اگر باہر مبلغ کوئی غلطی کریں تو ان کی غلطی کا سب سے پہلے مجھے علم ہوگا اور کسی کو نہیں ہو گا۔اس لئے کہ اس علم کے دو ہی ذریعہ ہیں۔یا تو یہ کہ مبلغ خود خط لکھ دے کہ میں نے ایسا کیا ہے۔یا اور کوئی احمدی جو وہاں ہو۔وہ خط لکھ دے۔اور یہ صاف بات ہے کہ مبلغ مخط لکھے گا تو مجھے ہی لکھے گا۔اور اگر کسی اور نے اس کی شکایت کرنی ہوگی تو وہ بھی میرے پاس ہی کرے گا۔کیونکہ مبلغوں کی غلطیوں کا علم حاصل کرنے کا ایک ہی احق ہے۔اور وہ میں ہوں۔اس لئے پہلے مجھے علم ہو گا۔اور پھر اوروں کو میرے ذریعہ علم ہو گا میں سناؤں تو وہ سنیں گے ورنہ نہیں۔اور جس قدر میں سناؤں اسی قدر انہیں علم ہو سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔چنانچہ بعض جب دوسروں کی نسبت ایسی باتیں لکھ دیتے ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ غلطی پر ہیں تو ان کو میں بیان نہیں کرتا۔اور نہ وہ اوروں کو معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً مفتی (محمد صادق) صاحب کے متعلق ہی کسی نے شکائتیں لکھیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے پہلے ہی رویا میں بتا دیا کہ ایسا کیا جائے گا جو ٹھیک نہیں۔اس لئے جب خط آئے تو میں نے چاک کر دئے اور دفتر ڈاک میں نہیں بھیجے۔اور ان کو بھی معلوم نہیں کہ کیا باتیں تھیں۔ان کا اگر کوئی حصہ ظاہر کیا تو میں نے خود کیا اور کسی کو بطور خود کوئی بات معلوم نہیں ہو سکتی تھی۔مولوی (سرور شاہ) صاحب کو بھی چونکہ براہ راست کوئی علم نہیں ہو سکتا۔میرے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔اس لئے وہ یہ بات نہیں کہہ سکتے تھے جو سمجھی گئی۔پھر بعض کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ مولوی صاحب نے مبلغوں کے آئندہ تعین کے لئے کہا ہے